ایران: بندرعباس کے بندرگاہ میں دھماکا،4 افراد ہلاک ،سینکڑوں زخمی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

ایران میں بندر عباس کے شہید رجائی بندرگاہ کے سپیشل اکنامک زون میں زور دار دھماکے میں 4 افرادہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔

سول میڈیا پر جاری ویڈیو فوٹیجز اور تصاویر میں دیکھا گیا ہے کہ بندر عباس پر دھوئیں کے بادلوں نے آسمان کو ڈھانپ لیا ہے اور بندر عباس ایمرجنسی سروسز کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اب تک4 افراد ہلاک اور 500 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق زخمیوں کو بندر عباس کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

اس علاقے میں زیادہ تر دفتری عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

بندرگاہ کے ایک ملازم نے تسنیم نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ’متعدد ملازمین اب بھی ان منہدم چھتوں کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں اور ہم انھیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

ایران کی ریلیف اینڈ ریسکیو آرگنائزیشن کے سربراہ نے بندر عباس میں شہید رجائی بندرگاہ میں دھماکے کے باعث کم سے کم 4 افراد کی ہلاکت اور پانچ سو سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس وقت زخمیوں کی امداد کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے اور اور آگ بھجانے کا کام بھی شروع کیا جا چکا ہے۔

دھماکے کی جگہ سے سامنے آنے والی فوٹیج میں لوگوں کو اس جگہ سے بھاگتے اور کچھ کو زخمی حالت میں زمین پر لیٹے دیکھا جا سکتا ہے۔ کنٹینر ٹرمینل اس وقت بھی آگ کی زد میں ہے اور اسے بھجانے کے لیے ہیلی کاپٹرز کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔

متعدد رپورٹس میں عینی شاہدین کی جانب سے یہ بتایا گیا ہے کہ ایرانی بندرگاہ شہید رجائی پر ہونے والا دھماکہ اس وقت ہوا جب یہاں اچانک لگنے والی آگ بند کنٹینرز جن میں آتش گیر مادہ موجود تھا، جو کیمیکلز بھی ہو سکتا ہے تک پھیل گئی۔

خطے میں کرائسز مینجمنٹ سے منسلک اہلکار کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ’اس دھماکے کی وجہ شہید رجائی بندرگاہ میں سٹور کیے گئے متعدد کنٹینرز میں ہونے والا دھماکہ ہے۔‘

عالمی میریٹائم رسک فرم ایمبرے انٹیلی جنس کے مطابق متاثرہ کنٹینرز میں ایرانی میزائلوں میں استعمال ہونے والا سالڈ فیول موجود تھا۔ ان کے مطابق ’یہ آگ سالڈ فیول کی شپمنٹ کی نامناسب ہینڈلنگ کی وجہ سے لگی۔‘

کمپنی کے مطابق اسے دھماکے سے پانچ ناٹیکل میل کے فاصلے پر 12 مرچنٹ بحری جہاز موجود تھے جن میں سے سات بندرگاہ پر موجود تھیں۔

شہید رجائی ایران کی سب سے بڑی کمرشل ہندرگاہ ہے جو ملک کے جنوب میں آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے جسے تیل کی تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ بندرعباس شہر کے مغرب میں 20 کلومیٹر دور موجود ہے اور ہرموزگان صوبے کا دارالحکومت ہے۔ ایران کی قومی آئل پروڈکشن کمپنی کا کہنا ہے کہ اس دھماکے کا ملک کی آئل ریفائنریز، فیول ٹینکس اور پائپ لائنز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہ دھماکہ اتنا بڑا تھا کہ رہائشیوں کو اس کی آواز اور احساس 50 کلومیٹر دور تک بھی ہوا۔

Share This Article