بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبو بلوچ کو ریاستی فورسز نے ہدہ جیل سے شدیدتشدد کے بعد پشین جیل منتقل کردیا ہے۔
بیبوبلوچ کے بھائی بلخ شیر بلوچ نے اپنے ایک جاری ویڈیو پیغام میں اس کی تصدیق کی ہے کہ بیبوبلوچ کو پشین جیل منتقل کیا گیا ہے ۔
جاری ویڈیو پیغام میں بلخ شیر بلوچ نے انکشاف کیا ہے کہ پشین جیل میں بیبو بلوچ کے جیل سیل اور واش روم میں کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور بیبو بلوچ نے جیل کے اندر بھوک ہڑتال شروع کی ہوئی ہے۔
بلخ شیر کے مطابق بیبو سے آج جب پشین میں اہلخانہ نے ملاقات کی تو بیبو نے اپنے اوپر سی ڈی ڈی کی تشدد کی تصدیق کردی ۔
انہوںنے کہا کہ سمنگلی تھانے میں بیبو بلوچ کو جب ہدہ سے لے جایا گیا تو وہاں مرد پولیس اہلکاروں نے بیبو بلوچ پر تشدد کیا۔
بیبو بلوچ کےبھائی نے کہا کہ لواحقین جب ہدہ جیل میں ملاقات کے لیے گئے تو خاتون پولیس اہلکاروں نے اُن کی کزن اور پھوپھی کو گرفتار کرنے کی دھمکی دی۔
بیبو بلوچ کے بھائی کے مطابق پشین جیل میں بھی تین گھنٹے انتظار کے بعد ملاقات کی اجازت دی گئی جہاں بیبو بلوچ نے تشدد اور سخت نگرانی میں رکھے جانے کی تصدیق کی اور بتایا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ اور گلزادی بلوچ پر بھی تشدد کیا گیا ہے۔