بھارت کے زیرانتظام جموں کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 26 ہوگئی ہے ۔
عالمی رہنمائوں نے پر سخت ردعمل دیا ہے جبکہ بھارتی میڈیا پر جنگ کے نعرے بلند ہورہے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے مقامی پولیس کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پرفائرنگ کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد 26 ہو گئی ہے۔
پہلگام انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع مشہور سیاحتی مقام ہے۔
سیاحوں پر حملے کا یہ واقعہ پہلگام سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بیرسن میں ایک پہاڑی پر پیش آیا جہاں سیاحوں کا گروپ ایک سرسبز چراگاہ کے پاس موجود تھا۔
انڈیا کے زیرِ انتظام اس مسلمان اکثریتی خطے میں 1989 سے شورش جاری ہے۔ تاہم حالیہ برسوں کے دوران پُرتشدد واقعات میں کمی آئی ہے۔
تاحال کسی گروہ نے منگل کے روز ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم یہ پہلگام میں سیاحوں پر حملے کا پہلا واقعہ نہیں۔
1990 کی دہائی میں جب کشمیر میں شورش عروج پر تھی تب چار جولائی 1995 کو پہلگام سے چھ غیر ملکی سیاحوں کو اغوا کر لیا گیا تھا۔
دوسری جانب واقعہ پر عالمی رہنما ئوں نے سخت ردعمل دیا ہے ۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کا ملک دہشتگردی کے خلاف جنگ میں انڈیا کے ساتھ کھڑا ہے۔
خبر رساں روئٹرز کے مطابق اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’کشمیر سے انتہائی پریشان کن خبر ملی ہے۔ امریکہ مضبوطی سے دہشتگردی کے خلاف (جنگ میں) انڈیا کے ساتھ کھڑا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ امریکہ ہلاک ہونے والے افراد اور زخمیوں کی صحتیابی کے لیے دعا گو ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم مودی اور انڈیا کے عظیم لوگوں کو ہماری مکمل حمایت اور گہرے دل سے ہمدردیاں حاصل ہیں۔‘
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے منگل کے روز انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی علاقے پہلگام میں ہونے والے دہشت گردی کے واقع پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل انڈیا کی حمایت جاری رکھے گا۔
ایکس پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے انڈیا کے وزیرِ اعظم نرندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے عزیز دوست نرندر مودی میں اس وحشیانہ حملے سے بہت غمزدہ ہوں جس میں درجنوں بے گناہوں کی ہلاکت ہوئی اور متعدد لوگ اس میں زخمی ہوئے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری دُعائیں متاثریں اور اُن کے خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ اسرائیل ہمیشہ کی طرح اب بھی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں انڈیا کے ساتھ کھڑا ہے۔‘
روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے بھی انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس ’سفاکانہ جرم کا کوئی جواز نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم توقع کرتے ہیں کہ اس میں ملوث افراد کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میں اور پوری روسی قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انڈیا کے ساتھ تعاون کو مزید بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں۔‘
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ’مسلح حملے‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ’شہریوں کے خلاف حملے کسی بھی صورت میں ناقابل قبول ہیں۔‘
سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا کہ سیکرٹری جنرل نے پہلگام میں 22 اپریل کو ہونے والے مسلح حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا کہ اس طرح کے واقعات کی جس قدر بھی مزمت کی جائے وہ کم ہے۔‘
جرمن چانسلر اولاف شولز کی جانب سے بھی پہلگام میں دہشت گردوں کے حملے میں 26 سے زائد افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
جرمن چانسلر نے ایک پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم پہلگام میں سیاحوں کے خلاف گھناؤنے دہشت گردانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ہماری ہمدردیاں متاثرین کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں اور ہم تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔ ہماری دلی تعزیت انڈیا کے عوام کے ساتھ ہے۔‘
یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیئن نے کشمیر میں مسلح افراد کے ہاتھوں کم از کم 26 افراد کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’گھناؤنا دہشت گردانہ حملہ‘ قرار دیا ہے۔
انھوں نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے نام ایک تعزیتی پیغام میں کہا کہ ’پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے نے آج بہت سے بے گناہ لوگوں کی جانیں لیں۔ آپ اس آزمائش میں مضبوطی سے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔‘ یورپی کمیشن کی سربراہ نے مزید کہا کہ ’یورپ آپ کے ساتھ کھڑا رہے گا۔‘
سری لنکا کی وزارت خارجہ نے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انڈیا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
سری لنکا کی وزارت خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سری لنکا آج پہلگام میں ہونے والے گھناؤنے دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کرتا ہے۔ ہم متاثرین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔ سری لنکا ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انڈین حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم علاقائی امن و سلامتی کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔‘
نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مزمت کرتے ہوئے کہا کہ ’نیوزی لینڈ کشمیر میں دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ہم متاثرین، ان کے اہل خانہ اور انڈین عوام کے ساتھ گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اس مشکل وقت میں اپنے انڈین دوستوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
اگرچہ تاحال اس حملے کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے جبکہ حکام کی جانب سے بھی اس ضمن میں کچھ نہیں کہا گیا ہے تاہم انڈین چینلوں پر سابق فوجی اور سلامتی کے امور کے ماہرین اس حملے کا الزام پاکستان اور پاکستانی فوج پر دھرتے نظر آئے۔اور میڈیا پر جنگ کے نعرے بلند ہورہے ہیں۔
انڈین چینلز کے کئی اینکرز، دفاعی ماہرین اور سوشل میڈیا صارفین اس حملے پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے انڈین حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ’پاکستان کو اس کا جواب‘ دیں۔
انڈین فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل اور دفاعی تجزیہ کار سید عطا حسین نے ’این ڈی ٹی وی‘ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ’اسرائیل پر سات اکتوبر کے حماس حملے کی کاپی ہے۔ یہ حملہ سکیورٹی فورسز پر نہیں کیا گیا ہے۔ یہ غیر مسلح سیاحوں پر کیا گیا ہے۔ یہ حملہ پورے ملک پر کیا گیا ہے۔‘
اسی چینل پر ایک دوسرے دفاعی تجزیہ کار سابق میجر جنرل سنجے میسٹن نے کہا کہ ’انڈیا کی جانب سے جوابی کارروائی تو ضرور ہو گی۔ لیکن اس بار حکومت کو فوج کو کُھلا ہاتھ دینا چاہیے۔‘
’ایکس‘ پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعظم مودی کا کہنا تھا کہ ’جنھوں نے بھی اس بہیمانہ کارروائی کا ارتکاب کیا ہے انھیں انصاف کا سامنا کرنا ہو گا۔ انھیں بخشا نہیں جائے گا۔ اُن کا شیطانی منصوبہ کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ہمارا عزم ناقابل تسخیر ہے اور وہ مزید مضبوط ہو گا۔
کشمیر میں تجارتی انجمنوں اور دیگر اداروں نے اس واقعہ کے خلاف بدھ کے روز جموں کشمیر میں ہڑتال کی جا رہی ہے۔
جموں میں وکلا کی بار ایسوسی ایشن اور تجارتی انجمنوں کے علاوہ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور کشمیر پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نے پورے خطے میں ہڑتال کی کال دی ہے۔
حملے کے بعد سے ہی انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے متعدد علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے پہلگام اور گردونواح کے علاقوں میں سیاحت کی صنعت سے جڑے سینکڑوں لوگوں نے منگل کی شب شمعیں جلا کر ان ہلاکتوں کے خلاف پرامن احتجاج بھی کیا تھا۔