پسنی میں مچھلی کی قیمتوں میں کمی پر ماہی گیر اور کمپنی مابین تنازع برقرار

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں مچھلی کی قیمتوں میں کمی پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے ،کمپنی مالکان نے بانگڑا مچھلی کی قیمتوں میں کمی کردی جسے ماہی گیروں نے مسترد کردیا۔

اس سلسلے میں کہدہ عبد الکریم فشرمین کو آپریٹو سوسائٹی پسنی کے رہنماؤں نے پسنی فش ہاربر جیٹی کے احاطے میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ پسنی میں مچھلی بیوپاریوں کی جانب سے مچھلی کی قیمتوں میں کمی کو پسنی کے ماہی گیروں نے یکسر مسترد کردیا اور کہا ہے کہ ضلع گوادر بھر میں فی کلو ہانگڑا مچھلی کی قیمت 280 روپے ہےلیکن پسنی کے فش کمپنی مالکان کی ایما ء پر یہاں مچھلی کی قیمتوں کو دانستہ طور پر کم جاتا ہے یہ صور تحال ماہیگیروں کے معاشی استحصال کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ماہی گیر بارہا یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ پسنی کے سمندری حدود میں غیر قانونی ٹرالرز کو فوری طور پر روکا جائے ٹرالرز غیرقانونی طریقے سےمچھلیاں پکڑ رہی ہیں جس سے غریب ماہی گیر نان شبینہ کا محتاج ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سیپی ( گُر ) کے شکار پر پابندی عائد کی جائے ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پسنی کے سمندر میں جب بھی روزگار شروع ہوجاتا ہے تو یہاں کے کمپنی مالکان مقامی ماہی گیروں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہوجاتے ہیں کبھی غیر مقامی ناخداؤں کو ان پر مسلط کیا جاتا ہے تو کبھی مچھلی کی قیمتوں میں کمی لایا جاتا ہے اور ہم ماہی گیر فش کمپنی مالکان کی من مانیاں کسی بھی طرح قبول نہیں کرینگے۔

انہوں نے کہاکہ ہم ماہی گیر یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ بین الا قوامی مارکیٹ میں پیسے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ آتا ہے اور ہمیں اس سے کوئی انکار نہیں ہے لیکن اگر ضلع بھر میں مچھلی کی قیمتوں میں فرق صرف پسنی شہر میں آئے تو یہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے کہاکہ پسنی کے سمندر میں پکڑی جانے والی مچھلیوں کی تازگی ان علاقوں سے کہیں زیادہ بہتر ہوتی ہے کیونکہ ہمارے ماہیگیر دوران شکار پکڑی جانے والی مچھلیوں کو فوری طور پر برف لگاتے ہیں تاکہ ان کی تازگی برقرار رہےاس کے باوجود ہمیں اپنی محنت کا مناسب معاوضہ نہیں مل رہا۔ان تمام تر نا انصافیوں کے خلاف، کہدہ عبد الکریم فشرمین کو آپریٹو سوسائٹی پسنی نے تمام ماہیگیروں کی رائے اور اتفاق سے سمندری شکار کا گزشتہ دنوں سے بائیکاٹ کیا ہے اور تمام ماہی گیر سمندر نہیں جارہے ہیں ۔

انہوں نے کہاہم پر امن طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں تاکہ ہماری آواز حکام بالا تک پہنچ سکےاورہم واضح طور پر اعلان کرتے ہیں کہ اگر ہمارے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو تمام ماہیگیر پسنی کے عوام کو ساتھ لے کر اپنے احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے اور اس صورتحال کی تمام تر ذمہ داری فش کمپنی مالکان پر عائد ہو گی۔

Share This Article