بلوچستان کے علاقے دکی میں آج کائونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے جعلی کارروائی میں قتل کئے گئے5 افراد میں 2 کی شناخت بطور لاپتہ افراد کے ہوگئی ہے۔
اس سے قبل عوامی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مارے جانے والے لوگ لاپتہ افراد ہونگے اب یہ خدشات درست ثابت ہوگئے ہیں۔
محمد دین مری اور اعجازولد خدا بخش کے ناموں سے شناخت ہونے والے دونوں افراد پہلے سے فورسز کے زیر حراست تھے۔
محمد دین مری کو چار ماہ قبل دسمبر 2024 کو ضلع ہرنائی سے فورسز نے گرفتار کر کے جبری طور پر لاپتہ کر دیا تھا۔
جبکہ اعجاز ولد خدا بخش بلوچ سکنہ منگچر کو 12 اپریل 2025 کو فورسز نے ان کے ایک ساتھی زید ولد عابد خان سکنہ سریاب شال کے ہمراہ قلات کے علاقے منگچر سے حراست میں لینے کے بعد دونوں کو لاپتہ کر دیاتھا۔
آج سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک کارروائی میں اس نے 5 عسکریت پسند ہلاک کردیئے تھے۔
بعد ازاں ان کی لاشیں ہسپتال منتقل کردی گئی تھیں۔
سی ٹی ڈی کی جانب سے کارروائی میں 5 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے دعوے کے بعدبلوچ حلقوں نے فوری طور پر اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ مذکورہ کارروائی میں ممکنہ طور پر لاپتہ افراد کو قتل کیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی ماضی میں بھی ایسے جعلی کارروائیوں میں لاپتہ افراد کو قتل کرنے کے سنگین جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔
سی ٹی ڈی کی آج کی جعلی کارروائی میں قتل کئے گئے 5 افراد میں سے اب تک 2 کی شناخت بطور لاپتہ افراد کے ہوگئی ہے جبکہ دیگر تینوں کے حوالے سے بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ لاپتہ افراد ہی ہونگے۔