جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UNHRC) کے 61ویں اجلاس میں جاپانی انسانی حقوق کے کارکن شُن فوجیکی نے بلوچستان میں مبینہ ریاستی جبر اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
اپنے خطاب میں فوجیکی نے مندوبین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ “ان بلوچ ماؤں کا تصور کریں جو اپنے پیاروں کی تلاش میں بے چین ہیں”۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں خوف، غیر یقینی اور مسلسل غم کا ماحول ہے، جہاں صرف 2025 میں 1,200 سے زائد جبری گمشدگیوں کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان کے مطابق لاپتہ افراد میں خواتین اور کم از کم 75 طلبہ بھی شامل ہیں، جبکہ 1,000 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
فوجیکی نے الزام لگایا کہ بلوچستان میں تشدد، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور غیر قانونی حراستوں کے واقعات مسلسل سامنے آ رہے ہیں، مگر متاثرین کو انصاف تک رسائی حاصل نہیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کی کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی ایک سال سے زائد عرصے سے جاری حراست کو ریاستی جبر کی نمایاں مثال قرار دیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان تانبے اور سونے کے وسیع ذخائر سے مالا مال ہے، مگر مقامی آبادی غربت کا شکار ہے جبکہ بیرونی عناصر ان وسائل سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکام مقامی آبادی کی رضامندی کے بغیر انہیں بے دخل کر رہے ہیں، جو UNDRIP اور ICCPR جیسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
فوجیکی نے صورتحال کو “وقار اور انصاف کا بحران” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کی خاموشی پر شدید سوال اٹھایا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ “کسی پوری قوم کو خاموشی میں ختم ہونے دینا خطرناک ہوگا”۔
جاپانی کارکن نے کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ٹھوس اقدامات کرے، جن میں ریکوڈک سمیت اہم علاقوں میں آزادانہ تحقیقات، پاکستان پر جبری گمشدگیوں اور مقامی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق کے لیے دباؤ، بین الاقوامی فنڈنگ کو مقامی کمیونٹی کی رضامندی، روزگار کی ضمانت اور غربت میں کمی جیسے معیار سے مشروط کرنا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر فوجیکی نے کہا کہ بلوچستان میں بگڑتی ہوئی صورتحال عالمی مداخلت کی متقاضی ہے، کیونکہ “انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے”۔