سردار اختر مینگل کا مستونگ دھرنا ختم،احتجاجی تحریک کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما ئوں کی رہائی کے لئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں کوہ چلتن کے دامن میں لک پاس کے مقام پر گزشتہ 20 روز سے جاری دھرنے کا خاتمہ اور بلوچستان بھر میں احتجاجی تحریک اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان انہوں نے مستونگ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ عوام کو درپیش مشکلات کے پیش نظر دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھرنے کا اختتام کسی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے، اور ہمارا احتجاج اب دوسری شکل اختیار کرے گا۔

بی این پی کے سربراہ نے مزید بتایا کہ حالیہ آل پارٹیز کانفرنس میں مختلف سیاسی جماعتوں نے دھرنا ختم کرنے کی تجویز دی تھی جس پر غور کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔

انہو ں نے کہاکہ پاکستانی فوج و آئی ایس آئی بلوچستان مسئلے کا حل نہیں چاہتے کیونکہ وہ خود بینیفشری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ گدوں کی طرح بلوچوں کے ماس نوچ کر ان کا خون چوس رہے ہیں اور بلوچستان کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ میں لگے ہوئے ہیں وہ کسی صورت بلوچستان کے مسئلے کا سیاسی حل نہیں چاہتے۔

اختر مینگل نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بی این پی اپنے جمہوری مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھے گی، اور اب بلوچستان بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی تاکہ آواز بلند رکھی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ بی این پی اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان 18 اپریل کو کرے گی۔

آخر میں انہوں نے احتجاجی تحریک کے مرحلے اور تاریخوں کا اعلان کیا ہے۔

18 اپریل کو مستونگ ،20 اپریل کو قلات ،24 اپریل کو خضدار،26 اپریل کو پنجگور ،28 اپریل کو تربت ،30 اپریل کو گوادر،2 مئی کو نوشکی ،4 مئی کو دالبندین ،6 مئی کو خاران،8 مئی کو حب ،10 مئی کو سبی اور 12 مئی کو نصیر آباد میں ریلی نکالی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان تمام علاقوں میں نکالے جانے والی ریلیوں میں وہاں سے تعلق رکھنے والے بی این پی کے مرکزی کابینہ کے اراکین سی سی ممبران ضلعی عہدہ داران اور اس احتجاجی تحریک میں شامل سیاسی و قبائلی رہنما شامل ہونگے۔

Share This Article