اختر مینگل ریاست کو کارروائی پر مجبور نہ کرے، خالد مگسی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان عوامی پارٹی (باپ)کے صدر خالد مگسی نے پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اختر مینگل دھرنا ختم کرے اور شاہراہیں کھول دے ،ریاست کو کارروائی پر مجبور نہ کرے۔

واضع رہے کہ حکومت نے خود کوئٹہ کی داخلی سڑکیں خندقیں کھود اور کنٹینرز لگا کر بند کئے تاکہ اختر مینگل کی قیادت میں مارچ کو کوئٹہ میں داؒ ہونے سے روکاجائے ۔ جب راستے بند کئے گئے تو لانگ مارچ کو مستونگ میں لکپاس کے مقام پر دھرنے میں تبدیل کردیاگیا ہے جو گذشتہ 3 ہفتوں سے جاری ہے ۔

خالد مگسی نے کہا کہ گرفتاری نظام کے تحت ہوتی ہے، سڑکیں بند کرنے سے رہائی ممکن نہیں ہے۔

اختر مینگل بارہا یہ دہرا چکی ہے کہ سڑکیں ہم نے نہیں بلکہ حکومت نے بند کی ہیں۔

باپ کے صدر نے پریس کانفرنس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا سردار اختر مینگل سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنا دھرنا ختم کریں اور شاہرائیں کھول کر عوام کی مشکلات کم کریں۔

پریس کانفرنس میں پاب پارٹی کے رہنما و سینیٹ پاکستان کے سابق چیئرمین صادق سنجرانی و دیگر بھی موجود تھے۔

خالد مگسی نے کہا کہ ریاست کو اپنا نظام چلانے کے لیے مجبوریاں ہوتی ہیں اور سیاستدانوں کو بھی ایک دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اختر مینگل ہمارے بھائی اور معزز شخصیت ہیں، ان سے گزارش ہے کہ ضد چھوڑ کر مذاکرات کی میز پر آئیں کیونکہ بہترین حل صرف بات چیت سے ہی نکل سکتا ہے۔

یاد رہے کہ کئی حکومتی وفود مذاکرات کے لئے دھر نا گاہ پہنچے اور مذکرات کئے لیکن بقول سردار اخترمینگل کے اختیارات نہ رکھنے کی وجہ سے مذکورہ وفوددوبارہ نہیں آئے۔

اختر مینگل کا محض ایک ہے مطالبہ ہے کہ بی وائی سی قیادت کو ماورائے آئین گرفتار کیا گیا ہے اسے رہا کروہم اپنا دھرنا ختم کرینگے۔

خالد مگسی نے بتایا کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر اختر مینگل سے بات بھی ہوئی ہے اور پارٹی رہنما ان سے ملاقات بھی کر چکے ہیں۔

صدر بلوچستان عوامی پارٹی نے واضح کیا کہ حکومت اور اختر مینگل کے درمیان مذاکرات کرانے کے لیے ہم تیار ہیں لیکن ریاست کو کارروائی پر مجبور نہ کیا جائے، کیونکہ ریاست کو بھی اپنے فرائض انجام دینے پڑتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ گرفتاری نظام کے تحت ہوتی ہے، سڑکیں بند کرنے سے رہائی ممکن نہیں۔

Share This Article