بی ایم سی طلبا وطالبات کا کالج و ہاسٹلز کی عدم بحالی پر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بولان میڈیکل کالج کے طلباء و طالبات نے کہا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ سے کالج کی بندش کے باعث امتحانات کی تیاری، وارڈز میں عملی تربیت اور قیمتی وقت کا شدید ضیاع ہوا ہے۔ ان تمام نقصانات کے ازالے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

طلباء نے کہا کہ سوشل میڈیا، اخبارات، آن لائن میڈیا اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بھرپور احتجاجی مہم چلائی گئی، جو طلباء و طالبات کے تعلیمی شعور اور وابستگی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ تعلیم کو سیاسی انتقام اور منفی رجحانات سے الگ رکھتے ہوئے کالج اور ہاسٹلز کو فوری بحال کیا جائے۔

بیان میں کہا گیا کہ حالیہ سوشل میڈیا مہم کے دباؤ پر 25 اپریل سے کالج اور ہاسٹلز کھولنے کا اعلان کیا گیا، لیکن ماضی کے وعدوں کی طرح اس بار بھی کالج و ہاسٹلز کی بحالی میں شفافیت نظر نہیں آ رہی۔ الاٹمنٹ کے عمل میں سنگین غلطیاں موجود ہیں، طلباء نے اپنی درخواستیں جمع کروا دی ہیں، تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی مناسب معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ ان غلطیوں کو درست کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، جس سے دوبارہ مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

طلباء نے اعلان کیا کہ اگر 25 اپریل تک کالج اور ہاسٹلز بحال نہ کیے گئے تو طلباء و طالبات اپنی مدد آپ کے تحت سڑکوں پر کلاسز کا آغاز کریں گے، اور اس کے ساتھ ساتھ ہر ضلع میں احتجاجی تحریک کا باقاعدہ شیڈول جاری کیا جائے گا، جس میں والدین، سول سوسائٹی اور سیاسی تنظیموں کو شامل کیا جائے گا تاکہ اس جدوجہد کو وسیع تر عوامی حمایت حاصل ہو سکے۔

Share This Article