ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان ریجنل آفس تربت مکران کی جانب سے بلوچستان کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے مصالحتی سفارشات پیش کی ہیں۔
ایچ آر سی پی کا دعویٰ ہے ان مصالحتی سفارشات پر عمل کرنے سے بلوچستان کے موجودہ کشیدہ حالات بہتر ہو سکتے ہیں ۔
مذکورہ بالا مصالحتی سفارشات 13 اپریل 2025 کو پریس کلب تربت میں منعقدہ ایڈوکیسی میٹنگ میں اجتماعی طور پر مرتب کر کے منظور کی گئی ہیں اور ایڈوکیسی میٹنگ کا انعقاد ایچ ار سی پی ہیڈ آفس لاہور کی مشاورت ، مدد اور حمایت سے کیا گیا ہے۔
اتوار کے روز تُربَت پریس کلب میں انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان مکُران چیپٹر کی جانب سے ایک ایڈوکیسی میٹنگ منعقد کی گئی جس میں انسانی حقوق کے کارکنان نے بھرپور شرکت کی۔
اجلاس میں درج ذیل مصالحتی سفارشات منظورکرلئے گئے۔
1۔ مسلم ، پاکستانی اور بلوچ معاشروں اور ثقافتوں میں خواتین کا کافی بلند مقام ہوتا ہے اور ان کی بہت زیادہ عزت کی جاتی ہے، حتیٰ کہ بلوچ معاشرہ اور ثقافت میں اگر دو فریقین کے مابین جنگ چھڑ جائے اور کوئی خاتون بیچ میں آ جائے تو جنگ بندی کی جاتی ہے ۔ایسے حالات میں خواتین کی گرفتاری اور جیل میں بندش کسی بھی حالت میں مناسب نہیں ، لہٰذا ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت تمام گرفتار اور جیل میں بند خواتین کو فوری طور پر رہا کیا جائے، اور اگر ان کے خلاف کوئی الزام ہو تو انہیں عدالت کے سامنے پیش کیا جائے ۔
2۔ سردار اختر جان مینگل کی سربراہی میں بی این پی کے دھرنے اور لانگ مارچ کا واحد مطالبہ گرفتار اور جیل میں بند خواتین کی رہائی ہے ۔ اس لیے ان کے دھرنے اور لانگ مارچ کے بنیادی انسانی حقوق تسلیم کرتے ہوئے عملی طور پر دے دیے جائیں اور محاصرہ اور رکاوٹیں ختم کی جائیں ۔
3۔ جبری طور پر لاپتہ کرنے کا عمل اقوام متحدہ کے چارٹر ، انسانی حقوق کے عالمی منشور اور خود پاکستان کے آئین کی صریحاً خلاف ورزی ہے، اس لیے تمام جبری طور پر لاپتہ افراد کو بازیاب اور رہا کیا جائے اور آئندہ بھی جبری طور پر لاپتہ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔
4۔ ماورائے عدالت قتل کا عمل بھی اقوام متحدہ کے چارٹر، انسانی حقوق کے عالمی منشور اور پاکستانی آئین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ اس لیے یہ سلسلہ بھی ہمیشہ کے لیے بند کیا جائے ۔
5۔ انسانی حقوق کے عالمی منشور کو پاکستان سمیت اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک نے دستخطوں کے ساتھ منظور کیا ہے ، اور اسے فیصلے کے تحت اپنے اپنے دساتیر اور تعلیمی نصابات میں شامل بھی کیا ہے، جس کے مطابق پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے شہریوں کے کئی بنیادی انسانی حقوق ہوتے ہیں جن میں حقِ زندگی، حقِ روزگار ، حقِ تعلیم ، حقِ صحت ، حقِ آزادئ اظہارِ رائے، قانون کی نظر میں مساوات کا حق، حقوق اور مطالبات منوانے کے لیے جلسہ، ہڑتال اور مظاہرے کے حقوق، اور کئی دوسرے حقوق بھی شامل ہیں جنہیں شہریوں کو فراہم کرنا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔