عمان کے دارالحکومت مسقط میں امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ان کا ملک ایک ’شفاف معاہدہ‘ چاہتا ہے۔
خیال رہے اس سے قبل سابق امریکی صدر براک اوبامہ کے دورِ اقتدار میں بھی ایران اور امریکہ سمیت دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ ہوا تھا، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ اقتدار میں اس معاہدے کو ختم کر دیا تھا۔
ایران نے اس سے قبل اب تک اس معاہدے پر دوبارہ مذاکرات سے انکار کیا تھا۔
یہاں یہ بات واضح نہیں ہے کہ مسقط میں ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکی اور ایرانی مذاکرات کار ایک کمرے میں بیٹھیں گے بھی یا نہیں لیکن پھر بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
آج ہونے والے اجلاس میں مذاکرات کے طریقہ کار پر گفت و شنید ہو گی۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ اس مرحلے پر بالواسطہ مذاکرات ہی بہتر ہوں گے۔
صدر ٹرمپ کے نمائندے سٹیو وٹکوف مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کر رہے ہیں اور وہ کہہ چکے ہیں کہ امریکی حکام براہ راست مذاکرات کو ترجیح دیں گے۔
لیکن یہاں سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ فریقین کے لیے کس قسم کا معاہدہ قابلِ قبول ہوگا۔ امریکی صدر کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے۔
دوسری جانب ایران کو ایک ایسے معاہدے کی امید ہے جس سے اس کا جوہری پروگرام محدود تو ہوجائے لیکن مکمل طور پر بند نہ ہو اور اس کے بدلے میں وہ پابندیوں سے چھٹکارا حاصل کر سکے۔
عباس عراقچی کہتے ہیں کہ: ’ہمارا ارادہ ایک ایسے شفاف اور باعزت معاہدے تک پہنچنا ہے جہاں فریقین کسی ایک بات پر متفق ہو جائیں، امید کی جا سکتی ہے کہ ابتدائی طور پر فریقین میں اتفاق ہو جائے گا اور اس سے مذاکرات کی راہ ہموار ہو جائے گی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے ساتھ مسقط آنے والے وفد میں ’ایسے ماہرین موجود ہیں جو ماضی میں بھی اس معاملے پر مذاکرات میں حصہ لے چکے ہیں۔‘
امریکی وفد کی قیادت کرنے والے سٹیو وٹکوف روس اور یوکرین مذاکرات کا بھی حصہ ہیں اور جمعے کو انھوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بھی ملاقات کی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ مہینے متحدہ عرب امارات کے ذریعے ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کو ایک خط لکھا تھا اور کہا تھا کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے اور اس پر اسرائیل یا امریکہ کے کسی بھی متوقع حملے کو روکنے کے لیے مذاکرات چاہتے ہیں۔
امریکی صدر نے گذشتہ پیر کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کے وائٹ ہاؤس کے دورے کے موقع پر ایران سے مذاکرات کا اشارہ دیا تھا اور کہا تھا کہ ’ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار کبھی نہیں ہوں گے۔‘
انھوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہیں ہوتا تو امریکہ فوجی طاقت کا استعمال بھی کر سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے متعدد مرتبہ کہا ہے کہ وہ دباؤ کے نتیجے میں مذاکرات نہیں کرے گا۔
گذشتہ پیر کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ عمان میں ہونے والا اجلاس ایک بڑی پیش رفت ہے اور اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو یہ ’ایران کے لیے بہت بُرا دن ہوگا۔‘
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔