بلوچستان حکومت کے وزرااور ترجمان نے آج بروز جمعرات کو کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس میں بلوچ نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ پر برس پڑے۔
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند اور وزراء کی پریس کانفرس میں وزیر ایریگیشن صادق عمرانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اختر مینگل بلوچ قوم کے دشمن ہیں۔ ہر انتخابات میں پی پی پی جمہوری طریقے سے کامیاب ہوئی ہے ۔کیا ادی فریال بلوچ خاتون نہیں تھیں، کیامریم نواز خاتون نہیں تھیں۔؟
انہوں نے کہا کہ تھری ایم پی او کے سردار اختر مینگل کے خلاف گرفتاری کا مقدمہ ہے، مگر چھپے بیٹھے ہیں ،سی ایم کے ساتھ اس نے جو گفتگو کی وہ نہیں بتا رہے، اگر بتا دیں تو کہیں منہ دکھانے کے لائق نہیں رہیں گے۔
صادق عمرانی نے کہا کہ وہ کھبی بلوچستان کے یونین کونسل کے خود ساختہ بلوچستان کے مسائل کی بات کرتے ہیں اور کبھی دہشتگردوں کی سہولت کاری کرتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ سردار اختر مینگل نے پی پی پی کے بارے میں جو زبان استعمال کی اس کی مذمت کرتے ہیں ۔اختر مینگل بلوچستان حکومت سے رابطے میں رہے ۔
اسی طرح پریس کانفرنس میں وزیر صحت بخت کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اختر مینگل جو زبان استعمال کر رہا ہے وہ کسی کی روایات نہیں، نہ انہیں زیب دیتی ہے ،اختر مینگل بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں بلوچ اب جاگ اٹھی ہے اور جانتے ہیں کے کون ہمارا خیر خواہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو، ذوالفقار علی بھٹو نے جمہوریت کے لئے اپنی جان قربان کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی پی پی کی تاریخ پوری دنیا جانتی ہے ، بھٹو صاحب پھانسی پر چڑھے، اور بہت ساتھیوں نے جیل بھی کاٹی ، ماہ رنگ دہشت گردوں کو سپورٹ کر رہی ہے ، اگر آپ نے سیاست کرنی ہے تو ایسے نہیں ہو سکتی، جمہوری سیاست اور احتجاج کریں، آپ کا حق ہے۔
علی مدد جتک نے کہا کہ اختر مینگل دہشتگردوں کی بی ٹیم ہے ، وہ جیل میں موجود دیگر خواتین کے لیے آواز نہیں اٹھاتے، صرف مخصوص ایجنڈے پر کام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے ترقیاتی کاموں سے اختر مینگل کو تکلیف ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کسی وزیر سے کبھی کوئی بریف کیس نہیں پکڑا گیا، ہم صاف شفاف سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے 2018 کے انتخابات میں بی این پی کی حمایت کی، تب انہیں کامیابی نصیب ہوئی۔