بلوچ حقوق کی خلاف ورزیاں ایک نہ ختم ہونے والا معمول بن چکاہے،بی ڈبلیو ایف

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ وومن فورم کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان میں حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف کریک ڈاؤن اور جبر پر گہری تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ بلوچ حقوق کی خلاف ورزیاں ریاست میں ایک نہ ختم ہونے والا معمول بن چکا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بی وائی سی کے پرامن سیاسی کارکنان اور قیادت کی غیر قانونی گرفتاریاں ایک معمول بن چکی ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن جس میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبرگ بلوچ، شاہ جی صبغت اللہ، سمی دین، لالا وہاب اور اب گلزادی بلوچ (7 اپریل کو اغوا) شامل ہیں صورت حال کو مزید خراب کر رہا ہے۔ ان پر ایم پی او جیسے کالے قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں جو آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ BYC کے تمام ارکان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور کریک ڈاؤن بند کیا جائے۔

بلوچ وومن فورم کے ترجمان نے کہاکہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں روز مرہ کا معمول بن چکی ہیں۔ حالیہ واقعات جیسے شاعر نبیل نود بلوچ (23 مارچ، گوادر) اور استاد نظام حسن (7 اپریل، کوئٹہ) کا اغوا تشویش ناک ہیں۔ ہم انصاف، شفافیت اور قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں جبری اغوا غیر قانونی عمل ہے جسے بند کیا جائے۔

انہوں نے کہاکہ اغوا کے بعد جعلی مقابلوں میں قتل ریاستی پالیسی کا حصہ بن چکا ہے۔ مارچ اور اپریل میں مشکے (آواران) سے اغوا شدہ 12 افراد کو مار کر جھوٹے مقابلے کا دعویٰ کیا گیا۔ 7 اپریل کو پنجگور کے علاقے وشبود میں بہادر شافی نامی نوجوان کو مار دیا گیا۔ ہم ان جعلی مقابلوں اور ماورائے عدالت قتل کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ ریاستی ادارے پرامن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کر رہے ہیں۔ 7 اپریل کو وڈھ (خضدار) میں احتجاج کے دوران ایک شخص شہید اور تین زخمی ہوئے جب کہ کوئٹہ دھرنے میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں جہاں پرامن اور نہتے سیاسی کارکنوں کا محاصرہ کیا گیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پرامن احتجاج پر فائرنگ کا سلسلہ بند کیا جائے اور عوام کی آواز سنی جائے۔

Share This Article