مستونگ میں حالات کشیدہ، فورسزنے دھرنا گاہ کو گھیر لیا، اسپتال میں ایمرجنسی نافذ

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچستان کے علاقے مستونگ میں کوہ چلتن کے دامن میں بلوچستان نیشنل پارٹی ( بی این پی )کے 10 دنوں سے جاری دھرنے کو آج بروزاتوار کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ شروع کرنے سے قبل فورسز نے چاروں اطراف سے گھیر لیا ہے۔

حالات شدید کشیدہ اور تشویش ناک بتائے جارہے ہیں ۔

مستونگ اسپتال میں 6 سے 8 اپریل تک ایمرجنسی نافذکردی گئی ہے ، ڈاکٹرزاور اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کردی گئ ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی نے لکپاس کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصدیق شدہ اطلاع ہے کہ سیکورٹی فورسز نے بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل اور دھرنے میں موجود دیگر افراد کو مکمل طور پر گھیر لیا ہے۔

بی این پی نے اس عمل کو "کھلی جارحیت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی تمام قومی شاہراہوں کو فوری طور پر احتجاجاً بند کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ پارٹی نے اس بات کا واضح اعلان کیا کہ جو بھی قدم اب اُٹھایا جائے گا اس کی مکمل ذمہ داری حکومت اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

بی این پی نے خبردار کیا کہ اگر طاقت کا استعمال کیا گیا تو اس کے نتائج کی مکمل ذمہ داری حکومت اور انتظامیہ پر ہوگی۔

لانگ مارچ کے شرکا کے گھیراؤ کے خلاف بی این پی نے بلوچستان بھر میں تمام شاہراہوں کو بند کرنے کی کال دی ہے۔

یہ بیان سردار اختر مینگل کے ٹویٹ کے بعد جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ لکپاس میں سیکورٹی فورسز کی موجودگی اور آپریشن کے حوالے سے نیا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے دھرنا گاہ میں کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ کے حوالے سے شرکاء کو ہدایات دیتے ہوئے کہا تھا کہ آپ کے ہی لباس میں آپ کے ہی زبان میں کچھ انتشار پسند آپ کے ہی درمیان ہونگے۔ممکن ہے جو نعرے آپ لگائیں وہ انکا جواب بھی دیں اور آپ کو جذبات میں لانے کی کوشش بھی ہوگی لیکن دھرنے کے تمام شرکا کو سختی سے ہدایت جاری کرتا ہوں کہ ہمارا لانگ مارچ پرامن تھا اور ہم پرامن طریقے سے آگے بڑھیں گے ۔

ان کا کہنا تھا کہ جو نعرے پارٹی قیادت لگائیں گے صرف انہیں کا جواب دینا ہوگا کوئی بھی شخص انتظامیہ اور قیادت سے آگے نہیں بڑھے گا،اشتعال انگیز اور انتشار پر مبنی نعروں کا جواب دینا ہوگا اور نہ ہی اس طرح کے نعرے لگانے کی کسی کو اجازت ہوگی۔اور جو ان ہدایات پر عمل نہیں کرینگے وہ ہم میں سے نہیں۔

ادھر بلوچستان نیشنل پارٹی ضلع کوئٹہ نے تمام ذمہ داران، یونٹ سیکرٹری ،ڈپٹی یونٹ سیکرٹری ، ضلعی کونسلران اور کارکنوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے علاقائی جلوسوں کے ساتھ جب کہ قوم و وطن دوست ساتھیوں طلباء تنظیموں تاجر برادری ٹرانسپورٹ وکلاء خواتین صحافی برادری، ٹریڈ یونین سے تعلق رکھنے والے محنت کش مزدور برادری اور تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے 6 اپریل بروز اتوار صبح دس بجے کو قائد بلوچستان سردار اختر جان مینگل اور لانگ مارچ کے شرکاء کا استقبال کرنے کے لیے برمہ ہوٹل منیراحمد چوک سریاب روڈ پہنچ جاہیں۔

جبکہ مستونگ میں اسپتال میں 6 سے 8 اپریل تک ایمرجنسی نافذ کردی گئی ، ڈاکٹرزاور اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ کیپٹن (ر) اطہر عباس راجہ کی ہدایت پر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال مستونگ ڈاکٹر نثار احمد بلوچ نے آج 6 اپریل تا 8 اپریل ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے تمام ڈاکٹرز فارماسسٹس نرسز پیرامیڈیکس اور دیگر اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ تمام ایمرجنسی ادویات سمیت ہسپتال کے چاروں ایمبولینسز کو بمعہ ڈرائیورز کے ساتھ الرٹ کردیا گیا ہے۔

خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ حکومت و ریاست پر امن لانگ مارچ کو روکنے کے لئے مکمل طاقت کا استعمال کرے گی ۔

تین روز تک موبائل فون انٹرنیٹ سروس کی بندش کے بعد جمعہ اور سینیچر کی شب موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس کو شب 12 بجے کے بعد بحال کر دیا گیا تھا لیکن 17 گھنٹے کے بعد کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو ایک بار پھر معطل کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ بی این پی نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بیبو بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کی خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف ضلع خضدار کے علاقے وڈھ سے کوئٹہ تک لانگ مارچ شروع کیا تھا۔

Share This Article