مسئلہ ہم نہیں خود ریاست ہے ، اسکی متعین کردہ زندگی ہمیں قبول نہیں، ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

حکومت بلوچستان کی جانب سے ریاست مخالف تقریر کرنے پر قانونی کارروائی کے اعلان کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اگر ریاست یہ سمجھتی ہے کہ مسئلہ ماہ رنگ ہے، صبیحہ بلوچ ہے، شاہ جی ہے یا بیبگر ہے، تو ریاست غلط سمجھتی ہے۔ مسئلہ خود ریاست ہے۔

واضع رہے کہ حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے آج پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لکپاس میں بی این پی کے دھرنے میں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے ریاست مخالف تقریر کی ہے جس کے ردعمل میں اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر حکومت بلوچستان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے بھی واضح کرتے آئے ہیں اور اب بھی واضح کرتے ہیں کہ ہم کسی کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کر رہے۔ ہم بحیثیت قوم آزاد، شریف اور پرامن زندگی گزارنے کے خواہش مند ہیں۔ لیکن جو زندگی ریاست نے ہم سے چھین لی ہے، وہ ہمیں مارنا چاہتی ہے۔ ہر وقت ہماری عزت نفس کو چیلنج کیا جاتا ہے۔ ہمیں اٹھایا جاتا ہے، ہماری لاشیں ویرانوں میں پھینکی جاتی ہیں۔ آج قلات کے علاقے کوہنگ سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ عبدالمالک ولد محمد یوسف، جنہیں 11 اکتوبر 2024 کو تربت سے پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا، ایک جعلی انکاؤنٹر میں شہید کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف ایک ہے “جو زندگی ریاست نے ہمارے لیے متعین کی ہے، وہ ہمیں قبول نہیں”۔ ریاست کی متعین کردہ زندگی یہ ہے کہ وہ مارتا جائے اور ہم خاموش رہیں، اٹھایا جائے اور ہم خاموش رہیں، تشدد کے سیلوں میں تاحیات بند رکھا جائے اور ہم خاموش رہیں، اپنے پیاروں کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا جائے اور ہم خاموش رہیں، ہر وقت موت اور اغوا کے خوف کے سائے میں رکھا جائے اور ہم خاموش رہیں۔ ہمیں یہ زندگی بالکل قبول نہیں۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا کہ اگر ریاست سمجھتی ہے کہ مسئلہ ماہ رنگ ہے، صبیحہ بلوچ ہے، شاہ جی ہے یا بیبگر ہے، تو ریاست غلط سمجھتی ہے۔ مسئلہ خود ریاست ہے، کیونکہ جب تک ریاستی دہشت گردی، ظلم و جبر برقرار رہے گا، ہم ہوں یا نہ ہوں، کوئی نہ کوئی ضرور ہوگا۔ کیونکہ کسی نہ کسی کو اٹھنا پڑے گا۔ اس لیے مسئلہ ہم میں نہیں، ریاست میں ہے۔ ہم تو حق پر ہیں۔ ہم دکھ، ظلم و جبر، موت اور اغوا کے خوف سے آزاد، پرامن اور خوشحال زندگی چاہتے ہیں۔

Share This Article