غزہ میں دوبارہ اسرائیلی کارروائیوں سے 322 بچے ہلاک ہو چکے ہیں، یونیسیف

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کے بعد غزہ میں گذشتہ دو ہفتوں میں کم از کم 322 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔

یونیسیف کے مطابق اس دوران 609 بچے زخمی بھی ہوئے۔

یونیسیف کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کیتھیرین ریسل کا کہنا تھا کہ ‘غزہ میں جنگ بندی کے بعد غزہ کے بچوں کو زندگی جینے کا اور اسے دوبارہ بحال کرنے کا موقع ملا تھا جس کی انھیں اشد ضرورت تھی۔

‘لیکن اب ایک بار پھر بچوں کو جان لیوا تشدد اور محرومی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔

اسرائیل نے 18 مارچ کو غزہ میں ایک بار پھر کارروائیاں شروع کی تھیں اور الزام عائد کیا تھا کہ حماس نے جنگ بندی کو بڑھانے اور غزہ میں موجود 59 یرغمالیوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

دوسری جانب حماس نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل نے رواں برس جنوری میں طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

یونیسیف کا کہنا ہے کہ غزہ میں ‘بلا اشتعال بمباری’ دوبارہ شروع ہو چکی ہے اور 31 مارچ سے قبل آخری 10 دنوں میں سینکڑوں بچے زخمی اور ہلاک ہوئے ہیں۔

یونیسیف کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اکثریت بے گھر ہونے والے بچوں کی ہے جو خیموں یا تباہ شدہ مکانات میں رہ رہے تھے۔

خیال رہے یونیسیف غزہ میں حماس کی زیرِ انتظام وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار استعمال کرتا ہے جبکہ اسرائیل ان اعداد و شمار کو تواتر سے غیرمستند قرار دیتا آیا ہے۔

تاہم اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے ان اعداد و شمار کو قابل انحصار سمجھتے ہیں۔

خیال رہے اسرائیل نے بی بی سی سمیت تمام بین الاقوامی صحافی اداروں کے غزہ میں آزادانہ داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اسی سبب اسرائیل یا حماس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کی آزادنہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکتی۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ‘اپنی آپریشنل سرگرمیوں میں عام شہریوں کے نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے پُر عزم ہیں’ اور ‘تمام بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں’ کو پورا کر رہے ہیں۔

یونیسیف کے مطابق غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد گذشتہ 18 مہینوں میں اطلاعات کے مطابق مجموعی طور 15 ہزار بچے ہلاک اور 34 ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔

Share This Article