بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر رہنمائوں کی رہائی ، بلوچ نسل کشی وجبری گمشدگیوں کے خلاف بلوچستان ، ایران اور کراچی کے بعد اسلام آباد میں بھی عید کے روز احتجاجی مظاہرہ و ریلی کا انعقاد کیا گیا۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل کی جانب سے پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور پرامن مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے خلاف پرامن واک کا اہتمام کیاگیا۔
مظاہرے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے رہنماؤں اور کارکنوں کی غیر قانونی حراست کی بھی مذمت کی گئی۔
مظاہرین نے کہا کہ بلوچ قوم کو درپیش جاری ظلم و جبر، جنہیں ڈرانے دھمکانے، اغوا، غیر قانونی حراستوں اور جبری گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جہاں افراد بغیر کسی قانونی جواز کے غائب ہو جاتے ہیں، اور اپنے خاندانوں کو پریشانی اور غیر یقینی کی کیفیت میں چھوڑ دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچ طلباء، جو طویل عرصے سے قانونی اور جمہوری طریقوں سے اپنے حقوق کی وکالت کر رہے ہیں، ایک بار پھر سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو گئے، کیونکہ ان کے تحفظات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔