فرانس کے انتہائی دائیں بازو جماعت آر این کے رہنما کرپشن کیس میں مجرم قرار

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

فرانس کی میرین لی پین کو اپنی انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی (آر این) کی مالی اعانت کے لیے یورپی فنڈز کے غلط استعمال کا قصوروار ٹھرایا گیا ہے۔

پیرس کی ایک عدالت نے بدعنوانی کے الزام میں مارین لے پین کو پانچ سال تک کسی بھی عوامی عہدےکے لیے نااہل قرار دیا ہے۔ انہیں دو سال کی معطل شدہ سزا کے ساتھ مجموعی طور پر چار سال قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

فرانس کی عدالت نے اپنی انتہائی دائیں بازو کی جماعت آر این کی مالی اعانت کے لیے یورپی یونین کے فنڈز میں خرد برد کا الزام ثابت ہونے پر میرین لی پین پر عوامی عہدے کے لیے کھڑے ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اس پابندی کے بعد وہ ملک کے 2027 میں صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لے پائیں گی۔

فیصلہ مکمل ہونے سے پہلے ہی میرین لی کمرہ عدالت سے نکل گئیں۔

فرانس کی میرین لی پین کو اپنی انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی (آر این) کی مالی اعانت کے لیے یورپی فنڈز کے غلط استعمال کا قصوروار ٹھرایا گیا ہے۔ انھیں فوری طور پر کام سے روک دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ لی پین پر پارٹی کی 20 سے زائد دیگر سینئر شخصیات کے ساتھ مل کر ایسے معاونین کی خدمات حاصل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا جو یورپی پارلیمنٹ کے بجائے ان کی آر این پارٹی کے معاملات پر کام کرتے تھے۔

استغاثہ نے گذشتہ سال کہا تھا کہ لی پین کو نہ صرف تین لاکھ یورو جرمانہ اور قید کی سزا ہونی چاہیے بلکہ پانچ سال تک عوامی عہدے کے لیے انتخاب لڑنے سے بھی روکنا چاہیے۔

فیصلے کے بعد سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق انہیں چار سال قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے جن میں سے دو کو معطل کر دیا جائے گا۔ دیگر دو سال کو حراست میں رکھنے کے بجائے الیکٹرانک ٹیگ کے ساتھ گزارا جاسکتا ہے۔ لی پین پر ایک لاکھ یورو جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

امکان ہے کہ وہ جیل کی سزا کے خلاف اپیل کریں گی، لہذا اس سزا کا اطلاق ابھی نہیں ہوگا۔

Share This Article