امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ جوہری معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کوبمباری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق اتوار کو این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘اگر وہ (ایرانی حکام) معاہدہ نہیں کرتے تو پھر بمباری ہو گی اور بمباری بھی ایسی جو انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘اس بات کا بھی امکان ہے کہ اگر وہ معاہدہ نہیں کرتے تو میں ان پر اضافی ٹیرف عائد کروں گا جو میں نے چار برس قبل بھی کیا تھا۔’
خیال رہے کہ امریکی صدر گذشتہ کئی ہفتوں سے ایران پر جوہری معاہدہ کرنے کے لیے زور دے رہے ہیں۔ رواں مہینے کے دوسرے ہفتے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا تھا کہ انھوں نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خط لکھ کر مذاکرات کی دعوت دی ہے۔
اس وقت امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنے کو ترجیح دیں گے۔
ایران کے سرکاری میڈیا ارنا کے مطابق ایرانی صدر مسعود پژشکیان کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے امریکہ کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ بالواسطہ مذاکرات کے لیے راضی ہے۔
اتوار کو مسعود پژشکیان کا کہنا تھا کہ ایران نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا لیکن دوسرے فریق کی جانب سے وعدے ٹوٹنے کے سبب اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی صدر کا کابینہ کے اجلاس میں کہنا تھا کہ ‘ہم نے اپنے جواب میں فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات کے امکان کے رد کر دیا ہے لیکن بالواسطہ بات چیت کا راستہ کھلا ہے۔’
‘بی بی سی فارسی کے مطابق ایرانی صدر نے اپنی کابینہ کو بتایا کہ ایران نے عمان کے ذریعے امریکہ کے خط کا جواب دے دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ ‘براہ راست مذاکرات مسترد’ کر دیے گئے ہیں۔
کچھ گھنٹے قبل ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ‘بالواسطہ مذاکرات کا راستہ ایجنڈے میں شامل ہے’ اور ‘سفارتی عمل’ بھی جاری ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی ارنا کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے ایران کو خط 12 مارچ کو لکھا گیا تھا جسے متحدہ عرب امارات کے ایک سفارتکار نے تہران پہنچایا تھا۔
ایرانی اور امریکی دونوں ممالک کے حکام اس خط میں موجود تفصیلات پر کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان خطوط کے تبادلے کو اس وقت تک صیغہ راز میں رکھا جائے گا جب تک ‘یہ ملک کے مفاد میں ہے۔’
ایرانی وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ‘بین الاقوامی مذاکرات، خطوط کے تبادلے اور سفارتی عمل کی تفصیلات کو جاری نہ کرنا ایک پیشہ ورانہ عمل ہے اور قومی مفاد سے مطابقت رکھتی ہے۔’
بی بی سی فارسی کے مطابق اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کہہ چکے ہیں کہ ‘اس (امریکی) خط کے مختلف پہلو ہیں اور اس کے ایک حصے میں دھمکیاں بھی موجود ہیں۔ ہم کسی کو بھی ایرانی عوام سے دھمکی آمیز لہجے میں بات کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔’
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ظاہری طور پر یہ خط سفارتی عمل شروع کرنے کی بھی ایک کوشش ہے۔’
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا جمعے کو کہنا تھا کہ ‘مذاکرات میں دشمن کے مطالبات کو زبردستی مان لینا بھی جنگ کے مترادف ہے۔’
انھوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ ایران کو دی گئی عسکری دھمکی پر عمل کرتا ہے تو خطے میں امریکہ اور اس کے اتحادی کے اڈے بھی ‘محفوظ’ نہیں رہیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ڈونلڈ ٹرمپ کے خط میں پابندیاں ہٹانے کا بھی ذکر نہیں تھا۔’
اس قبل ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای بھی اینی ایک تقریر میں کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ براہ راست مذکرات کرنا ‘دانشمندانہ’ عمل نہیں ہوگا۔