اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے پاس اطلاعات ہیں کہ میانمار کی فوج نے جمعے کے روز آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے کے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ہی حکومت مخالف گروہوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔
یاد رہے کہ میانمار میں فوج نے سنہ 2021 کی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد سے ملک خانہ جنگی کا شکار ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر میں میانمار کی ٹیم کی قیادت کرنے والے جیمز روڈہیور کا کہنا ہے کہ فوج طویل عرصے سے ملک میں انسانی امداد کی رسائی میں رکاوٹیں پیدا کرتی رہی ہے۔
اُن کا مزید کہنا ہے کہ ’مقامی سطح پر موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جمعے کو آنے والے زلزلے کے فوراً بعد ہی فوج نے فضائی حملے شروع کر دیے تھے۔
جیمز روڈہیور کا کہنا ہے کہ ’میانمار کی فوج زلزلے سے متاثرہ علاقوں سمیت اپنے ہی لوگوں پر فضائی حملے کر رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ ملبے تلے دبے لوگوں کی مدد کو آنے والوں کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔‘