لانگ مارچ پر فورسز کا شیلنگ، 250 کارکنان گرفتار،ریاستی طاقت راستہ نہیں روک سکتی، مینگل

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگر خاتون رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترمینگل کی قیادت میں نکالے جانے والے لانگ مارچ کو ضلع کوئٹہ کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔

انتظامیہ کی جانب سے ضلع مستونگ کی حدود میں لک پاس کو کنٹینر لگا کر بند کرنے اور کوئٹہ آنے والے دیگر راستوں پر خندقیں کھودنے کے باعث لانگ مارچ کے شرکا نے رات گئے کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ تفتان شاہراہ کے سنگھم پر دھرنا دیا۔

دوسری جانب لک پاس کی کوئٹہ والی سائیڈ پر لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔

ان شاہراہوں پر دھرنے اورلانگ مارچ کے شرکا کی بڑی تعداد میں موجودگی کے باعث دونوں اہم شاہراہوں پر ٹریفک معطل ہے۔

بی این پی کے مرکزی قائدین نے میڈیا کو بتایا کہ لکپاس ٹنل پر پارٹی قائدین اور کارکنوں پر فورسز کی جانب سے شیلنگ کی گئی، 250 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔تاہم علاقے میں انٹرنیٹ کی بندش اور اندھیرے کی وجہ سے صورتحال غیر واضح ہے ۔

آج شام کو بلوچستان نیشنل پارٹی کا لانگ مارچ وڈھ سے براستہ خضدار قلات ، مستونگ پہنچ گیا تھا ۔جہاں کوئٹہ جانے کے لئے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں ۔

سردار اختر نے کہا مصدقہ اطلاعات ہیں کہ کوئٹہ کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے، اور لک پاس کے دونوں اطراف کنٹینرز رکھ کر راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ میں بلوچستان کے بہادر عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ دونوں سمتوں سے لک پاس پر جمع ہوں اور دنیا کو بلوچ قوم کے اتحاد اور طاقت کا مظاہرہ دکھائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام شرکائے لانگ مارچ سے میری گزارش ہے کہ وہ ہر صورت پُرامن رہیں، چاہے ہمیں جتنا بھی اشتعال دلانے کی کوشش کی جائے۔ ہماری طاقت ہمارے نظم و ضبط، ہمارے اتحاد اور ہمارے مقصد میں ہے۔

بی این پی کا کہنا ہے شرکا ہاکی چوک پر دھرنا دیں گے ۔دوسری جانب حکومت نے شہر کے اہم علاقوں میں سیکیورٹی الرٹ کیا ہے جبکہ موبائل سروس بدستور بند ہے ۔

اختر مینگل نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے ہم شدید تشویش اور غم و غصے کے ساتھ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ لکپاس ٹنل پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائدین اور کارکنوں پر ریاستی فورسز کی جانب سے شیلنگ کی گئی، اور 250 سے زائد کارکنوں کو بلاجواز گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اختر مینگل نے کہا ہے کہ یہ ریاستی جبر پُرامن اور آئینی احتجاج کو کچلنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔

‏اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہماری تحریک مکمل طور پر پُرامن ہے اور ہمارے مطالبات نہایت جائز اور انسانی بنیادوں پر ہیں ہمارا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ہماری ماؤں اور بہنوں کو جنہیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے فی الفور رہا کیا جائے ان کی رہائی کے بغیر کوئی مذاکرات کوئی یقین دہانی اور کوئی وعدہ قابل قبول نہیں ہوگا۔

‏انہوں نے کہا کارکنوں پر حملے گرفتاریوں اور ریاستی طاقت کے استعمال سے ہماری آواز کو دبایا نہیں جا سکتا ہم دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بلوچ قوم ظلم کے سامنے جھکنے والی نہیں ہمارا اتحاد، ہمارا عزم اور ہماری قربانیاں اس جدوجہد کو اس کی منزل تک ضرور پہنچائیں گی۔

‏بی این پی قائد نے کہا ہے کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام گرفتار افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ہمارے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے بصورتِ دیگر حالات کی تمام تر ذمہ داری ریاستی اداروں پر عائد ہوگی۔

بی این پی مینگل سربراہ اختر مینگل نے کہا ہے کہ ہم اس وقت لکپاس پر موجود ہیں جہاں تمام داخلی راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ کوئٹہ سے لانگ مارچ میں شریک افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور شدید شیلنگ کی جا رہی ہے۔ میری سینئر قیادت پر بھی براہ راست شیلنگ اور فائرنگ ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم کوئٹہ کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ لکپاس کے دوسری جانب پہنچیں، اور مستونگ کے عوام سے گزارش ہے کہ وہ اپنی طرف سے لکپاس پر جمع ہوں۔ یہ بات واضح ہے: ہم اپنے مقصد کی طرف بڑھیں گے، چاہے ہمیں لکپاس کے نیچے ایک نئی سرنگ ہی کیوں نہ کھودنی پڑے۔

اختر مینگل نے کہاکہ ہم مضبوط ہیں، ہم اپنے مقصد سے پُرعزم ہیں، اور سب سے بڑھ کر، ہم پُرامن ہیں۔ کوئی طاقت، کوئی جبر، ہمارے حوصلے کو متزلزل نہیں کر سکتا، نہ ہمیں ہمارے راستے سے ہٹا سکتا ہے۔

Share This Article