بلوچ خواتین کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد اختر مینگل کی سربراہی بی این پی کا لانگ مارچ وڈھ سے خضدار پہنچ گیا ہے۔
حکومت بلوچستان کی جانب سے مارچ کے راستے میں کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں جب کہ خضدار سمیت بلوچستان بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل ہے لیکن اس کے باوجود بی این پی کا لانگ تمام تر رکاوٹوں کو عبور کرکے خضدار پہنچ گیا ہے ۔
خضدار شہر پہنچنے پر اختر مینگل و دیگر نے شرکا سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ آج ہمارے نکلنے کا مقصد کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، ریاست، ریاستی اہلکار، ادارے، وزراء اور نام نہاد حکومتوں نے ایک وقت ہمارے نوجوانوں کو اٹھانا شروع کیا، میں نے آواز دی، کئی پارٹیوں کے در پر گیا کہ آئیے متحد ہوکر ان کو روکے ایسا نہ ہو کہ کسی دن ان کے ہاتھ ہمارے خواتین کے دوپٹوں تک پہنچ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان محفوظ نہیں تھے، بزرگوں کے دستار انہی روڈو پر پھینکے گئے لیکن ہم نے آنکھیں جھکا لی۔ آج ماہ رنگ، سمی دین محمد ایک خاتون نہیں بلکہ بلوچستان کی عزت ہیں، ان کا تعلق ایک علاقے سے ہیں بلکہ بلوچستان سے ہیں۔
اختر مینگل نے کہا کہ عورتوں اور بچوں کو گرفتار کر کے حکومت دہشت گردی ختم کرنے کا دعوٰی کرتی ہے، لڑنا ہے تو پہاڑوں پر جا کر لڑو، مرد کے بچے بلوچ نوجوان وہاں بیٹھے ہیں وہاں پر جانے کی ہمت نہیں ہوتی کیونکہ وہاں آپ کی بیویاں آپ کو جانے کی اجازت نہیں دیتے، وہاں آپ کی پتلونیں گیلی ہوجاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپ کا زور صرف عورتوں اور بچوں پر چلتا ہے، بلوچستان کے نوجوان وہاں بیٹھے ہیں وہ تمہیں جواب دے سکتے ہیں۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ ہمیں پر امن احتجاج کی اجازت نہیں ملتی، اپنے شہداء کیلئے دو آنسو بہانے کی اجازت نہیں، ہمارے عزتیں تار تار کی جارہی ہے تو تمہاری حکومت ہمارے کس درد کی دوا ہے۔