بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ان کے صوبے میں حالیہ سیکورٹی کی بگڑتی صورتحال کے تناظر میں کہا ہے کہ صوبے میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کرنے کی ضرورت نہیں ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر ایسا آپریشن ہوسکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں واقع بلوچستان ہائوس میں بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ ایک نشست کے دوران کیا۔
سرفراز بگٹی نے صحافی کے اس سوال کے جواب میں کہ آیا بلوچستان کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر بطور وزیراعلیٰ آپ سمجھتے ہیں کہ ملٹری آپریشن کی ضرورت ہے؟
سرفراز بگٹی نے جواب میں کہا کہ ہمیں خطرے سے نمٹنا ہے،بلوچستان میں سمارٹ کائنیٹک آپریشن کی ضرورت ہے جبکہ انٹیلی جنس آپریشن پہلے ہی سے بلوچستان میں جاری ہیں۔ نو ٹرینیں بحال کی جا رہی ہیں۔ اس سے قبل بلوچستان میں کم ٹرینیں چلا کرتی تھیں۔
سرفراز بگٹی نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہمارے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی ان عسکریت پسندوں کو سپورٹ کرتی ہے، یہ ان افراد کی پراکسی ہے۔ یہ عسکریت پسند ی کو جائز قرار دینا (Legitimise) چاہتے ہیں۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ ان ثبوتوں کو گوگل کیا جا سکتا ہے، وہ اوپن سورس پر دستیاب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان خواتین کو گرفتار کرنا آخری آپشن تھا۔