بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچ قوم کے نام جاری اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ یہ وقت گھروں میں بیٹھ کر انتظار کرنے کا نہیں بلکہ بلوچ قوم اور قومی وقار کی خاطر فیصلہ کن گھڑی ہے۔ اگر آج ہم اپنے ساتھیوں کے لیے گھروں سے باہر نہ نکلے، تو شاید ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہ کر پائیں گی۔
پیغام میں کہا گیا کہ ریاستی مظالم پر بلوچ کی خاموشی زندگی کی ضمانت نہیں بلکہ دائمی بربادی کی علامت ہوگی ۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچ قوم کے نام جاری پیغام میں کہا کہ ماہ رنگ بلوچ محض بلوچ یکجہتی کمیٹی کی آرگنائزر اور ایک سیاسی کارکن نہیں، بلکہ بلوچ قوم کے اجتماعی شعور کی ترجمان، قومی یکجہتی کی علامت اور بلوچ عوام کے احساسات کی مجسم صورت ہیں۔ آج ریاست نے صرف ڈاکٹر مہرنگ کو اغوا نہیں کیا، بلکہ بلوچ قوم کے اجتماعی شعور کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اگر ہم اس بربریت پر خاموش رہے اور کوئی عملی اقدام نہ کیا، تو بطور قوم ہمیں تاریخ کے اس تاریک موڑ پر پہنچا دیا جائے گا جہاں سے واپسی شاید ممکن نہ ہو۔
انہوںنے کہا کہ اسی لیے، آج ہم نے ریاست کی وحشیانہ جارحیت، فسطائیت اور ظلم و بربریت کے خلاف ایک نہایت مشکل مگر ناگزیر فیصلہ کیا ہے، اور وہ فیصلہ مزاحمت کا ہے۔ ہماری یہ مزاحمت صرف ڈاکٹر مہرنگ، بیبرگ اور دیگر ساتھیوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے نہیں، بلکہ بلوچ قوم کے اجتماعی شعور اور قومی فکر کو ریاستی جبر کی زنجیروں سے آزاد کرانے کے لیے ہے۔
پیغام میں کہا گیا کہ شاید کچھ لوگ یہ سوچ رہے ہوں کہ ان کی خاموشی انہیں ریاست کے ظلم و ستم سے محفوظ رکھے گی، مگر اس سے بڑی خوش فہمی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اگر آج ریاست آوازوں کو قید کر رہی ہے، تو کل وہ خاموشیوں کے لیے بھی کوئی گنجائش نہیں چھوڑے گی۔ اس ظالم ریاست میں بلوچ عوام کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی، اور وہ اپنی وحشیانہ پالیسیوں اور بے دریغ تشدد کے ذریعے اس حقیقت کو بارہا ثابت کر چکی ہے۔
بی وائی سی نے کہا کہ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گزشتہ دو دنوں میں ریاست نے صرف کوئٹہ میں چار مرتبہ پرامن بلوچ مظاہرین پر کریک ڈاؤن کیا ہے۔ یہ ظلم و ستم تاحال جاری ہے، اور ریاست اپنی ضد اور طاقت کے نشے میں اس حقیقت کو ثابت کرنے پر تُلی ہوئی ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر یہاں کسی کو سانس لینے کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ کریک ڈاؤن درحقیقت کوئی فوری ردعمل نہیں، بلکہ ریاست کی ایک دیرینہ سازش کا حصہ ہے، جس کے ذریعے وہ بلوچستان میں خوف و ہراس پھیلانے کے مختلف حربے آزما چکی ہے۔ فورتھ شیڈیول، سیاسی کارکنان پر جھوٹے مقدمات، جبری گمشدگیاں، تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز کی بندش، اور بلوچستان بھر میں غیر معینہ مدت کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ—یہ سب اسی ریاستی پالیسی کے مختلف پہلو ہیں، تاکہ ایسا ماحول بنایا جائے جہاں عوام گھروں سے نکلنے کی ہمت نہ کر سکیں۔ اور پھر اسی خوف و ہراس کی آڑ میں یہ ظالم ریاست بلوچ یکجہتی کمیٹی سمیت بلوچ قوم کے سیاسی کارکنان اور مزاحمتی کیڈرز کو مکمل ختم کر سکے۔
پیغام میں کہا گیا کہ یہ کریک ڈاؤن کسی ایک احتجاج کو روکنے کے لیے نہیں بلکہ بلوچ قوم کے سیاسی شعور، قومی یکجہتی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کو مکمل طور پر کچلنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
انہوںنے کہا کہ یہ وقت گھروں میں بیٹھ کر انتظار کرنے کا نہیں بلکہ بلوچ قوم اور قومی وقار کی خاطر فیصلہ کن گھڑی ہے۔ اگر آج ہم اپنے ساتھیوں کے لیے گھروں سے باہر نہ نکلے، تو شاید ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہ کر پائیں گی۔
بی وائی سی انتباہ کیا کہ آج بلوچ کے حق میں خاموشی کا مطلب اجتماعی خودکشی کے مترادف ہے۔
انہوںنے کہا کہ ایک لمحے کے لیے سوچیے، کیا ہماری جانیں شہید نعمت کی جان سے زیادہ قیمتی ہیں؟ کیا ہدایت کی ماں نہیں تھی، جو آج بھی اپنے بیٹے کی راہ تک رہی ہے؟ کیا کوئٹہ کی خون میں نہائی گلیوں میں ریاستی بربریت کا مقابلہ کرنے والوں کا خون ہم سے مختلف تھا؟ اگر نہیں، تو پھر ہم خاموش کیوں ہیں؟
پیغام میں کہا گیا کہ ہماری یہ خاموشی زندگی کی ضمانت نہیں بلکہ ہماری دائمی بربادی کی علامت ہوگی۔
انہوںنے کہا کہ اگر آج ہم چند معمولی آسائشوں یا وقتی مفادات کی خاطر بارہ سالہ معصوم نعمت کے قاتلوں اور اس وحشی ریاست کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ اور ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری انفرادی وجود اجتماعی وجود سے منسلک ہے اگر بلوچ نہیں ہے تو ہم بھی نہیں ہے۔
بی وائی سی نے کہا کہ سلام ہے شال و سریاب کے اُن نوجوانوں کو، جو فائرنگ، شیلنگ، لاٹھی چارج، واٹر کینن اور بدترین ریاستی جبر کا سامنا کرکے بھی ثابت قدم ہیں، اور ہر مرتبہ نئے حوصلے اور نئی امید کے ساتھ ریاستی بندوقوں کے سامنے اپنا سینہ پیش کر رہے ہیں۔
پیغام میں کہا گیا کہ آج پورے بلوچ قوم پر یہ تاریخی فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ گھروں سے نکلے، اور جس بھی طریقے سے ممکن ہو، اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے۔ ہمیں ریاست کو یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ بلوچ قوم اپنی اجتماعی بقا اور قومی مستقبل کے لیے کسی بھی ظلم و جبر کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گی، بلکہ ہر بار پہلے سے زیادہ شدت اور جذبے کے ساتھ اس ظالم قوت کا مقابلہ کرے گی۔