صدر اردوغان کے ممکنہ صدارتی حریف و استنبول میئر کی گرفتاری پر ترکیہ میں احتجاجی مظاہرے

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

ترکیہ میں صدر اردوغان کے ممکنہ صدارتی حریف اور استنبول کے میئر امام اوغلوان کی گرفتاری پر ترکی میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔

میئر استنبول کو باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں تاہم امام اوغلو ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

ترکی کے شہر استنبول کے میئر اکرام امام اوغلو کو اتوار کے روز ہونے والی رائے شماری میں حزب اختلاف کی رپبلکن پیپلز پارٹی(سی ایچ پی) کے 2028 کے صدارتی امیدوار کے طور پر منتخب کیے جانے کا امکان ہے۔

مقدمے کی سماعت تک حراست میں رکھے جانے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ’میں کبھی نہیں جھکوں گا‘۔

بدھ کے روز انھیں حراست میں لیے جانے کے اقدام نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں سب سے بڑے مظاہروں کو جنم دیا ہے۔

اردوغان نے مظاہروں کی مذمت کی ہے اور سی ایچ پی پر ’امن میں خلل ڈالنے اور لوگوں کو پولرائز کرنے‘ کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے۔

استغاثہ نے اعلان کیا کہ امام اوغلو کو ’ایک مجرمانہ تنظیم قائم کرنے اور اس کا انتظام کرنے، رشوت لینے، بھتہ خوری، غیر قانونی طور پر ذاتی ڈیٹا ریکارڈ کرنے اور ٹینڈر میں دھاندلی کرنے‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

امام اوغلو پر ’مسلح دہشت گرد تنظیم کی مدد‘کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے لیکن ترک عدالت کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ان کی گرفتاری ’اس مرحلے پر ضروری نہیں‘ کیونکہ وہ پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں اور ان پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔

سی ایچ پی نے گذشتہ سال کے بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں کرد نواز پیپلز ایکوالٹی اینڈ ڈیموکریسی پارٹی (ڈی ای ایم) کے ساتھ حقیقی اتحاد کیا تھا۔

ڈی ای ایم پر پی کے کے یا کردستان ورکرز پارٹی سے وابستہ ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

پی کے کے نے 1984 سے ترکی کے خلاف بغاوت کرنے کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ اسے ترکی، یورپی یونین، برطانیہ اور امریکہ میں ایک دہشت گرد گروپ کے طور پر کالعدم قرار دیا گیا ہے۔

سنیچر کے روز استنبول میں میئر کے دفتر کے باہر ہوا میں آنسو گیس فائر کی گئی مظاہروں شام تک بڑی تعداد میں لوگ شامل ہو گئےاس لیے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بہت زیادہ مقدار میں آنسو گیس فائر کی گئی۔

مظاہرین نے اوغلو کی غیر قانونی حراست کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے اجتماعات پر حکومتی پابندی کی خلاف ورزی کی۔ سیاہ لباس میں ملبوس اور چہرے پر ماسک پہنے ایک نوجوان خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سیاسی وجوہات یا اپوزیشن کی حمایت کرنے کی وجہ سے احتجاج نہیں کر رہی تھیں بلکہ جمہوریت کا دفاع کرنے کے لیے احتجاج کر رہی تھیں۔

ان کا کہنا تھا ’میں یہاں انصاف کے لیے ہوں، میں یہاں آزادی کے لیے ہوں۔ ہم آزاد لوگ ہیں اور ترک عوام اسے قبول نہیں کر سکتے۔ یہ ہمارے رویّے اور ثقافت کے خلاف ہے۔‘

اپنے 11 سالہ بیٹے کو احتجاج میں لانے والی ایک اور خاتون نے کہا کہ وہ اسے لانا چاہتی ہیں کیونکہ وہ اس کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’ترکی میں رہنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے، ہم اپنی ہی زندگیوں کو کنٹرول نہیں کر سکتے، ہم یہ منتخب نہیں کر سکتے کہ ہم کس کو چاہتے ہیں اور یہاں کوئی حقیقی انصاف نہیں ہے۔‘

سنیچر کی رات سڑکوں پر موجود بہت سے لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ایک ایسے مستقبل کے لیے لڑ رہے ہیں جس پر وہ یقین کر سکیں۔

انقرہ اور ازمیر میں پولیس نے مظاہرین کے خلاف واٹر کینن کا استعمال کیا۔

Share This Article