حکومت بلوچستان کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سریاب سے حراست میں لی گئی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو کوئٹہ جیل منتقل کردیا گیا ہے۔
ماہ رنگ بلوچ اور دیگر 4 خواتین کو تھری ایم پی او کے تحت ایک ماہ کیلئے جیل منتقل کیا گیا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، ڈاکٹر صبیحہ بلوچ ،سعیدہ بلوچ ،بیبو بلوچ ،نوشین قمبرانی ،ناز جان مولابخش، شاہد علی ، شہزاد،قدرت بلوچ ، نثار احمد ،عزیز کرد، زاہد علی ،ناصر خان سمیت دیگر 150 نامعلوم افراد پر حکومت کی طرف سے ایس ایچ او سول لائن کے نام سے ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔
ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ انھوں نے پریس کانفرنس کر کے لوگوں کو اشتعال میں لا کر سول ہسپتال پر حملہ کیا اور ہسپتال میں رکھی گئیں لاشیں اٹھا کر لے گئے۔

کمشنر کوئٹہ حمزہ شفقت نے دعویٰ کیا کہ جعفر ایکسپریس کے ہلاک عسکریت پسندوں کے حق میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج کے دوران پُرتشدد مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور فائرنگ کی تھی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے قائدین کے ساتھ موجود مسلح افراد کی فائرنگ سے 2 مزدور اور ایک افغان شہری ہلاک ہوئے۔
اسی طرح بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے پاکستانی میڈیا جیو نیوز کے پروگرام "نیا پاکستان” میں بات کرتے ہوئے کہا کہ سول اسپتال کوئٹہ پر حملے کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کو گرفتار کرلیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بی وائی سی کے احتجاج میں مسلح افراد شامل تھے۔
ان کا کہناتھا کہ خصوصی صورتِحال ہوں تو خصوصی قوانین کی ضرورت ہوتی ہے، بلوچ یکجہتی کمیٹی مارے گئے عسکریت پسندوں کی لاشوں کے لیے احتجاج کررہی تھی، پولیس نے مظاہرین کو واٹر کینن کے ذریعے منتشر کرنے کی کوشش کی تھی۔