کوئٹہ : فورسز کی فائرنگ سے 3 مظاہرین شہید،بی وائی سی کا نعشوں کے ساتھ دھرنے کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں حکومت بلوچستان اور ریاستی فورسز کی جانب سے بی وائی سی کی پر امن مظاہرین پر بد ترین وخونی کریک ڈائو ن سے 3 افراد براہ راست گولی لگنے سے شہید ہوگئے ۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے لاشوں کے ساتھ منیر احمد روڈ پر دھرنے کا اعلان کیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ اس ریاستی بربریت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں اور منیر احمد روڈ پر پہنچ جائیں۔

بی وائی سی نے کوئٹہ میں پر امن مظاہرین پر ریاستی کریک ڈائون پر مظاہرین کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ریاست کے سیکورٹی اداروں کی فائرنگ سے 3 مظاہرین شہید جبکہ 7 زخمی ہیں۔

انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے پیل کی ہے وہ لاشوں کو منیر احمد روڈ لے کر آ ئیں اور لاشوں کے ساتھ دھرنا دیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ اس بربریت کے خلاف پورے بلوچستان کے عوام سڑکوں پر نکلے۔

بی وائی سی ترجمان نے کہا کہ ریاستِ پاکستان کے سیکورٹی اداروں نے بی وائی سی کے پُرامن دھرنے کو سبوتاژ کرنے کے لیے کوئٹہ میں مظاہرین پر بلا تفریق فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 3 افراد شہید جبکہ سات افراد شدید زخمی ہوگئے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس دوران بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، خواتین اور بچوں پر لاٹھی چارج، شدید شیلنگ اور مسلسل مواصلاتی بلیک آؤٹ کا سلسلہ جاری ہے۔

ان کا کہنا کہ سریاب میں سرچ آپریشن کے دوران مزید مظاہرین کو گرفتار کرنے کا ہدف بنایا جا رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ متاثری خاندانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ لاشوں کو منیر احمد روڈ لے کر آ ہیں اور لاشوں کے ساتھ دھرنا دیا جارہا ہے۔ ہم بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ منیر احمد روڈ پہنچ جاہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ہم پورے بلوچستان کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس بربریت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں۔

اس سے قبل بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کوئٹہ میںپرامن احتجاج پر شدید کریک ڈاؤن اور پولیس کی فائرنگ سے متعدد مظاہرین زخمی ہوئےتھے ۔

ترجمان نے کہا کہ آج، اس سے قبل کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کا منصوبہ بند دھرنا شروع ہو ، سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ میں مظاہرین کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔

پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا، گولیاں چلائیں، خواتین اور بچوں سمیت بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور شیلنگ کا استعمال کیا۔

پرامن دھرنے کو سبوتاژ کرنے کے لیے پولیس نے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کی جس سے متعدد افراد شدید زخمی ہوگئے۔ جبکہ ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ یہ اضافہ مسلسل گرفتاریوں، وحشیانہ مار پیٹ، اور مکمل مواصلاتی بلیک آؤٹ کے ساتھ آتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ سریاب میں سرچ آپریشن جاری ہے، سیکورٹی فورسز نے گھروں پر چھاپے مارے اور مزید مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔

بیان میں کہا گیا کہ موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ خدمات بدستور معطل ہیں، اور پہلے سے گرفتار کیے گئے افراد کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔

بی وائی سی نے اپنی مرکزی کمیٹی کے رکن بیبرگ، ان کے بھائی ہمل، ڈاکٹر الیاس، بلوچ خاتون سعیدہ، اور کئی دیگر افراد کی رہائی کا مطالبہ کرنے کے لیے دھرنا دیا تھا جنہیں جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ ریاست نے ان مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے طاقت، جبر اور خونریزی سے جواب دیا۔

Share This Article