کوئٹہ : پرامن ریلی پر بدترین ریاستی کریک ڈائون ، متعددافرادزخمی،کئی گرفتارو لاپتہ،ہلاکتوں کی اطلاعات

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی پر امن احتجاجی مظاہرے پر بدترین ریاستی کریک ڈائون سے متعددافرادگرفتار و لاپتہ اور کئی زخمی ہوگئے ہیںجبکہ لاٹھی جارج ،شیلنگ و اسٹیٹ فائرنگ سے ہلاکتوں کی بھی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

کوئٹہ میں حکومت کی جانب سے لاپتا افراد کے لواحقین پر سخت کریک ڈاؤن کرتے ہوئے بھرپور طاقت کا استعمال کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر امن مظاہرین جن میںخواتین وبچے پر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور شدیدشیلنگ کی جارہی ہے۔

پر امن مظاہرین پر واٹر کینن کے استعمال سمیت براہ راست فائرنگ بھی کی گئی جس سے ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

ویڈیو ز وتصاویر میں کئی افراد کو خون میں لت پت دیکھا جاسکتا ہے ۔

اطلاعات ہیں کہ شہر کے مختلف علاقوں میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔فورسز گھر گھر لوگوں کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کر رہے ہیں۔

انٹرنیٹ مکمل بند کردی گئی ہے ۔

کریک ڈائون میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں اور ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیںجبکہ کئی افراد گرفتار کیئے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی وائی سی نے بیبرگ بلوچ، ان کے بھائی حمل، ڈاکٹر الیاس، سعیدہ فیصل اور متعدد دیگر جبری لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے آج بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے پرامن دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، ریاست نے اس پرامن دھرنے پر وحشیانہ کریک ڈاؤن کرکے ظلم و جبر کی بدترین مثال قائم کی۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی ریاست نے جبر کا آغاز کر دیا۔ دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر پولیس، خواتین کانسٹیبلز کے ہمراہ، دھرنے کے لیے جمع ہونے والے افراد کو گرفتار کرنے لگی۔ 3 بج کر 30 منٹ پر جب مزید مظاہرین یونیورسٹی کے قریب پہنچے، تو جبر میں مزید شدت آ گئی۔ پولیس نے وحشیانہ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ شروع کر دی، جس سے پورا علاقہ میدانِ جنگ بن گیا۔ مظاہرین—جن میں مرد و خواتین دونوں شامل تھے—کو گھسیٹ کر پولیس وین میں ڈالا گیا۔ اس وقت درجنوں مظاہرین گرفتار ہو چکے ہیں، جبکہ کئی کی طبیعت شدید خراب ہے۔

بی وائی سی نے کہا کہ ادھر، سریاب میں پولیس نے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، جہاں گھروں اور گلیوں میں چھاپے مار کر مزید مظاہرین کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ پہلے سے گرفتار شدہ افراد کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں۔ گزشتہ روز سے کوئٹہ میں مکمل بلیک آؤٹ ہے۔ ریاست نے علاقے میں موبائل نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے تاکہ عوامی آواز کو دبایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ بلیک آؤٹ اور کریک ڈاؤن، انصاف کے متلاشی آوازوں کو خاموش کرنے کی واضح کوشش ہے۔ تاہم، ریاستی جبر کے باوجود، بلوچ یکجہتی کمیٹی اپنے پُرامن مزاحمتی عزم پر قائم ہے۔ ہم بلوچ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اسی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ اس جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ ہم ریاست پر واضح کرتے ہیں کہ تشدد، آنسو گیس اور گرفتاریاں ہمیں کمزور نہیں بلکہ مزید منظم اور مضبوط کریں گی۔

Share This Article