تربت: بیٹا کسی جرم میں ملوث ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے نہ کہ غائب کر دیا جائے، والد

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے تحصیل تمپ کے علاقہ کلاہو سے تعلق رکھنے والے لاپتہ نثار کریم کے والد نے فیملی ممبران کے ہمراہ تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ 30 جولائی 2023 کو لاپتہ کیے گئے ان کے بیٹے نثار کریم کی گمشدگی کو اب دو سال مکمل ہوگئے ہیں۔

انہوں نے میڈیا کے سامنے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کا بیٹا کسی جرم میں ملوث ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے نہ کہ یوں غائب کر دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ نثار کریم جو ڈیزل کے کاروبار سے وابستہ تھا اور بارڈر پر جایا کرتا تھا انہیں دو سال قبل اچانک لاپتہ کیا گیا اور انہیں آج تک اس کی کوئی خبر نہیں ملی نہ ہی کسی ادارے نے اس کی گرفتاری یا کسی قانونی کارروائی کی تصدیق کی۔ ان کے والد کریم بخش کا کہنا تھا کہ ڈیزل کا کاروبار کوئی جرم نہیں ہے اور اگر ان کے بیٹے پر کوئی الزام ہے تو اسے قانونی طریقے سے عدالت میں پیش کیا جائے۔

کریم بخش نے کہاکہ اپنے بیٹے نثار کریم کی بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے علاقائی میر و معتبرین سے ملاقاتیں کیں تاکہ ان کے ذریعے کوئی راستہ نکل سکے۔ حکومت سے اپیلیں کیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے احتجاج اور دھرنے کا بھی سہارا لیا لیکن انصاف تک ان کی رسائی ممکن نہیں ہوئی۔

پریس کانفرنس کے دوران کریم بخش نے چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور نثار کریم کو بازیاب کرائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے اور کسی کو بھی بغیر کسی قانونی کارروائی کے یوں غائب کر دینا ایک سنگین ناانصافی اور غیر قانونی عمل ہے۔

Share This Article