انڈونیشیا میں حاضر سروس فوجیوں کو سویلین عہدوں پر کام کرنیکی قانون منظور

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

انڈونیشیا کی پارلیمنٹ نے ایک قانون میں متنازع ترامیم کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت حکومتی امور میں فوج کا کردار بڑھ جائے گا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کی نئی قانون سازی انڈونیشیا کو ایک بار پھر فوجی آمر سہارتو کے دورِ اقتدار کے تاریک دنوں میں دھکیل سکتی ہے۔ خیال رہے سہارتو تقریباً 32 برس انڈونیشیا پر حکمرانی کرتے رہے تھے اور ان کا اقتدار سنہ 1998 میں اختتام پزیر ہوا تھا۔

قانون میں کی گئی تبدیلیوں کو صدر پروبوا سبیانتو کی حمایت بھی حاصل ہے جو کہ سپیشل فورسز کے سابق کمانڈر اور سہارتو کے داماد ہیں۔

انڈونیشیا کے قانون میں تبدیلی کے بعد فوجی حکام کو ریٹائرمنٹ یا عسکری اداروں سے استعفیٰ دیے بغیر حکومتی عہدوں پر کام کرنے کی اجازت ہوگی۔

ملک کے قانون میں ترامیم کے بعد بدھ سے جمہوریت کے حامی احتجاجی مظاہرین پارلیمنٹ کے باہر بیٹھے ہیں اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں۔

انڈنیشین ایسوسی ایشن آف فیمیلیز آف دا ڈس اپیرڈ سے منسلک انسانی حقوق کے کارکن ولسن کہتے ہیں کہ ’جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ فوج کو سیاست میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔ فوج صرف بیرکس اور قومی دفاع کی ذمہ دار ہونی چاہیے۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سنہ 1998 کے بعد سے جمہوریت کا قتل کیا جا رہا ہے اور آج یہ اپنی انتہا پر پہنچ گیا ہے۔‘

’جمہوریت کا قتل ایوانِ نمائندگان نے کیا ہے۔‘

قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد فوج اہلکار انڈونیشیا کے 14 حکومتی اداروں میں عہدے لے سکیں گے اور فور سٹار جرنلز کی ریٹائرمنٹ کی عمر بھی 60 سے بڑھا کر 63 برس کر دی گئی ہے۔

جمعرات کی شام تک پارلیمٹ کے باہر جمع ہونے والے احتجاجی مظاہرین کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی تھی۔

احتجاجی مظاہرین کے ہاتھ میں موجود متعدد بینرز پر لکھا تھا کہ: ’فوج کو بیرکس میں بھیجو۔‘

اس احتجاجی مظاہرے کے موقع پر پارلیمٹ کے باہر پولیس اور فوجی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

انڈونیشیا میں گذشتہ 25 برسوں سے سیاست اور حکومتی امور میں فوجی مداخلت کو محدود کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں لیکن مقامی انسانی حقوق کے ادارے امپارشل کا کہنا ہے کہ قانون میں کی گئیں ترامیم سے قبل بھی تقریباً 2600 آن ڈیوٹی فوجی حکام سویلین اداروں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

گلوبل کونسل نامی ادارے سے منسلک تجزیہ کار ڈیڈی ڈنارٹو کہتے ہیں کہ انڈونیشیا کے قوانین میں تبدیلیاں صدر پروبوا کے اقتدار کی ’طاقت کو وسعت‘ دینے کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کی مرکزی اپوزیشن جماعت نے ابتدائی طور پر ان ترامیم کی مخالفت کی تھی لیکن بعد میں ان کی جانب سے بھی اس عمل کی توثیق کر دی گئی ہے۔

’سویلین امور میں فوجی سوچ کو شامل کرنے کے حوالے سے قانون سازی انڈونیشیا کی پالیسی کو ہی یکسر تبدیل کر سکتی ہے، جہاں استحکام اور ریاستی کنٹرول کو جمہوری اقدار اور شخصی آزادیوں پر فوقیت حاصل ہوگی۔‘

ڈنارٹو کہتے ہیں کہ فوج کا سکیورٹی اور اتنظامی امور میں ’دوہرا کردار‘ سہارتو کی حکومت کا بھی مرکزی ستون تھا۔

انڈونیشیا کے کچھ شہریوں کو صدر پروبوا کی حکومت بھی آمرانہ دور کی یاد دلا رہی ہے۔ سنہ 1997 اور 1998 میں جب انڈونیشیا کی فوج پر جمہوریت پسند کارکنان کے اغوا کا الزام لگا تو اس وقت پروبوا سپیشل فورسز کے یونٹ کی قیادت کر رہے تھے۔

اس سے قبل لوگوں نے ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ پروبوا کی سیاست میں واپسی اور صدر بننے سے انڈونیشیا کی جمہوریت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

گذشتہ برس اکتوبر میں صدر بننے کے بعد سے اب تک صدر پروبوا سویلین امور میں فوج کا کردار بڑھاتے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کے بچوں اور حاملہ خواتین کو مفت کھانا فراہم کرنے کے پروگرام میں بھی لوجسٹیکل سپورٹ فوجی ادارے فراہم کرتے ہیں۔

دوسری جانب انڈونیشیا کی حکومت قانون میں گئی ترامیم کی حمایت کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ وزیرِ دفاع جعفری شمس الدین نے جمعرات کو پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ ’علاقائی تبدیلیاں اور بین الاقوامی عسکری ٹیکنالوجی‘ اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ فوج ’روایتی اور غیر روایتی تنازعات‘ کو سنبھالنے کے لیے خود کو تیار کرے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم انڈونیشین عوام کو کبھی مایوس نہیں کریں گے۔‘

Share This Article