عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا ہے کہ بلوچ قوم پرستوں سے بات چیت کر کے اس کا سیاسی حل نکالنے کے ایک اور فوجی آپریشن کی جانب جانا تباہی کا آغاز ہو گا۔
انھوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا ’مجھے یاد ہے کہ جب نیشنل عوامی پارٹی نے مشرقی بنگال میں فوجی آپریشن کی مخالفت کی تھی تو جنرل یحییٰ خان نے نومبر 1971 میں اس پر پابندی لگا دی تھی اور پاکستان دسمبر میں ٹوٹ گیا تھا۔
خیال رہے کہ افراسیاب خٹک نے ان خیالات کا جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد سکیورٹی صورتحال پر قومی سلامتی کے اجلاس کے بعد کہی ہے۔
قومی سلامتی کے اجلاس میں ’نیشنل ایکشن پلان اور عزم استحکام کی حکمتِ عملی پر فوری عمل درآمد پر زور دیا گیا ہے۔‘
اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کمیٹی نے ریاست کی پوری طاقت کے ساتھ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے سٹریٹیجک اور متفقہ سیاسی عزم پر زور دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے لیے قومی اتفاق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تاہم اس اجلاس میں تحریک انصاف سمیت چند جماعتیں شریک نہیں تھیں۔