انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپوارہ میں پولیس نے مسلح شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں ایک پاکستانی عسکریت پسند کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپ ایل او سی کے قریبی علاقے زچل ڈارا میں کل دیررات شروع ہوئی تھی۔
مقامی لوگوں کے مطابق وسیع علاقے کا محاصرہ کیا گیا اور وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں آرہی تھیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایک فوجی بھی زخمی ہوا ہے تاہم ذرائع نے بتایا چار فوجی شدید طور پر زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس اور فوج نے ہلاک ہونے والے عسکریت پسند کی شناخت سیف اللہ کے طور کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اُن کا تعلق پاکستان کے ساتھ تھا۔
ہندوارہ کے ایس ایس پی مشتاق احمد چودھری نے ایک بیان میں کہا کہ یہ آپریشن خفیہ اطلاعات کے بعد شروع کیا گیا تھا۔
فوج کی پندرہویں کور کے ایک افسر نےاپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ مارے گئے عسکرت پسند کا نام سیف اللہ تھا اور وہ پاکستانی شہری تھے۔
گذشتہ روز پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں انڈین وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ کشمیر میں اب بھی 79 مسلح شدت پسند سرگرم ہیں جن میں سے 59 غیرملکی ہیں۔