بلوچستان میں ڈھائی دہائیوں سے جاری پاکستانی فوج کی فوجی جارحیت کو آفیشل اور اعلانیہ کرانے کیلئے پاکستان کے قومی اسمبلی میں قومی سلامتی پارلیمانی کونسل کے ان کیمرہ اجلاس کااعلان کیا گیا ہے ۔
پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس کل یعنی منگل کی صبح 11 بجے قومی اسمبلی ہال میں منعقد ہوگا، جس میں سیکورٹی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں شرکت کے لیے اپنے 14 ارکان کے نام سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوا دیے ہیں۔
پی ٹی آئی کے جو 14 ارکان اس اجلاس میں شرکت کریں گے ان میں چیئرمین بیرسٹر گوہر، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، اسد قیصر، زرتاج گل، عامر ڈوگر، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز اور سینیٹر علی ظفر شامل ہیں۔
ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اس اجلاس میں عسکری قیادت، پارلیمانی کمیٹی کو ملک کی موجوہ سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کرے گی۔
ترجمان کے مطابق اس اجلاس میں پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران اور ان کے نامزد کردہ نمائندگان شرکت کریں گے۔
اس اجلاس کے لیے پارلیمنٹ میں غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں ہونے والے قومی سلامتی کے ان کیمرہ اجلاس کے موقع پر سکیورٹی کے سخت اور غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
کسی بھی غیر متعلقہ فرد کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے جبکہ میڈیا سمیت تمام انٹری کارڈز کو عارضی طور پر غیر مؤثر کر دیا گیا ہے۔
ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کی حدود میں کسی بھی قسم کی عکس بندی، ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ میڈیا کی اہمیت اور ضروریات سے مکمل آگاہ ہیں لیکن قومی سلامتی کے پیش نظر میڈیا اور تمام متعلقہ فریقین سے تعاون کی گزارش کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ یہ اجلاس بلوچستان میں بی ایل اے کی 11مارچ کو جعفرایکسپرین ٹرین پر حملے کے ردعمل میں بلایا جارہا ہے جو دنیا کی تاریخ میں دوسری بڑی ٹرین ہائی جیکنگ قرار دی گئی ہے ۔اس ہائی جیکنگ میں پاکستانی فوجی ترجمان نے 26 ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 21 سیکورٹی فورسز اہلکاراور5 سویلین تھے۔جبکہ بی ایل اے نے 12 سرمچاروں کی شہادت کی تصدیق کرتےہوئے 214سیکورٹی اہلکاروں کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا۔
بی ایل اے کے مذکورہ حملے کے بعد پاکستانی فوج کی جنگی صلاحیت پر کئی سوالات اٹھ گئے اور سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں رہی ہے ۔عوامی حلقوں میں فوج کی گرتی ساکھ کے پیش نظر اسٹیبلشمنٹ نے پارلیمنٹ کو اعتمادمیں لینے کیلئے قومی سلامتی کونسل اجلاس بلانے کا اعلان کیا ۔
ان کیمرہ قومی سلامتی کونسل کے اس اجلاس کا مقصد بلوچستان میں دو دہائیوں سے جاری غیر اعلانیہ فوجی جارحیت کو آفیشل اور اعلانیہ آپریشن میں بدلنے کی منظوری لی جاسکے تاکہ اقوام عالم اور انسانی حقوق اداروں کو بے وقوف بنایا جاسکے۔
کہا جارہا ہے کہ بلوچستان میں گذتشتہ 2 دہائیوں سے زائد پاکستانی فوج نے 50 ہزار سے زائد افراد جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے اور 20 ہزار سے زائد افراد کو ٹارگٹ کلنگ ، جعلی کارروائی اور زیرحراست قتل کرکے ان کی نعشیں ویرانوں میں پھینک دیئے اور اجتماعی قبروں میں دفنادیئے ہیں۔
یاد رہے کہ 2 سال قبل سات اپریل 2023 کو منعقد ہونے والے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ملک میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ایک نیا جامع آپریشن شروع کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔