مقدونیہ : نائٹ کلب میں آگ لگنے سے 59 افراد ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

شمالی مقدونیہ ایک نائٹ کلب میں آگ لگنے سے کم از کم 59 افراد ہلاک اور 155 دیگر زخمی ہو گئے۔

مرنے والوں میں زیادہ تر نوجوان ہیں اور ان کی عمریں 14 سے 25 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔

ماریجا تاسیوا شمالی مقدونیہ کے شہر کوکانی کے پلس کلب میں اپنی بہن کے ساتھ گئی تھیں جب یہ حادثہ پیش آیا۔ وہ ملک کی مشہور ہپ ہاپ جوڑی ڈی این کے کو دیکھ رہےتھے۔

19 سالہ لڑکی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ‘ہر کوئی چیخنے لگا اور باہر نکلو، باہر نکلو’ کے نعرے لگانے لگے۔ لوگوں نے آگ سے بچنے کی کوشش کی لیکن تقریبا 500 لوگوں کے لیے صرف ایک راستہ تھا کیونکہ تقریب کے پیچھے واحد دوسرا دروازہ بند تھا۔’

ماریجا کا کہنا تھا کہ ‘مجھے نہیں معلوم کہ کیسے لیکن میں زمین پر گر گئی، میں اٹھ نہیں سکی اور اسی لمحے لوگوں نے مجھ پر قدم رکھ کر گزرنا شروع کر دیا۔’

لیکن بلآخر کار وہ محفوظ مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں، لیکن ان کی بہن ایسا نہیں کرسکیں۔ ‘میری بہن مر گئی۔ مجھے بچا لیا گیا تھا اسے نہیں بچا سکے۔’

پولیس نے دس مشتبہ افراد کو گرفتار گیا جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ آگ لگنے کے ذمہ دار ہیں، جن میں ‘یہ لائسنس دینے والی وزارتوں کے عہدیدار’ بھی شامل ہیں۔

وزیر داخلہ پینس توسکووسکی نے بتایا کہ آگ مقامی وقت کے مطابق رات ڈھائی بجے اس وقت لگی جب آتش گیر آلات سے نکلنے والی چنگاریاں چھت سے ٹکرا گئیں جو انتہائی آتش گیر مواد سے بنی تھی۔

توسکووسکی نے کہا کہ مقامی میڈیا کی جانب سے اسے ‘دیسی ساختہ نائٹ کلب’ قرار دیا گیا ہے اور دارالحکومت اسکوپیے سے تقریبا 100 کلومیٹر مشرق میں واقع اس نائٹ کلب کے پاس کام کرنے کا قانونی لائسنس نہیں تھا۔

یہ پہلے قالین کا گودام تھا اور پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا رشوت اور بدعنوانی کا آگ سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

کوکانی ہسپتال کی سربراہ کرسٹینا سرافیموفسکا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے زیادہ تر کو باہر نکلنے کی کوشش کے دوران خوف و ہراس کے باعث بھگدڑ مچنے کی وجہ سے چوٹیں آئیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ‘ان میں سے 70 مریض جھلس گئے ہیں اور کاربن مونو آکسائیڈ کا زہر دیا گیا ہے۔’

یونیورسٹی کلینک فار سرجیکل ڈیزیز میں تعمیر نو اور پلاسٹک سرجری کے ماہر ولادیسلاو گروئیف زندہ بچ جانے والوں کا علاج کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان میں سے زیادہ تر کے جسم کا 18 فیصد سے زیادہجلا ہے ۔ سر، گردن، اوپری دھڑ اور اوپری اعضا یعنی ہاتھوں اور انگلیوں پر دوسرے اور تیسرے درجے کے جلنے کے زخم ہیں۔

پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کی ترجمان بلجانا ارسووسکا نے کہا کہ اتوار کے روز معائنے میں اس مقام میں کئی ’خامیاں‘ سامنے آئیں، جن میں آگ بجھانے اور روشنی کے نظام میں’خامیاں’ بھی شامل ہیں۔

ہسپتال کے باہر خطاب کرتے ہوئے ریڈ کراس کے رضاکار مصطفیٰ سعیدوف نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت نوجوانوں کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ‘اندر جہاں وہ متاثرین کی شناخت کر رہے ہیں، وہاں صورتحال اس سے کہیں زیادہ خراب ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ والدین بھی کافی نوجوان ہیں، ان کی عمر 40 کی دہائی میں ہیں۔ ان کے بچے 15 یا 20 سال کے ہیں۔’

Share This Article