بلوچستان کے مختلف علاقوں نال ، مستونگ ، اورماڑہ اور خاران میں بلوچ عسکریت پسندوں نے پاکستانی فورسزپر متعددحملے کئے ۔
مسلح افراد نے مختلف پولیس تھانوں پر حملوں کے دوران اہلکاروں کو یرغمال بناتے ہوئے تمام اسلحہ ضبط کرلیا ہے۔
ضلع مستونگ میں درجنوں مسلح افراد نے ہندو محلہ کے قریب پولیس ناکہ پر حملہ کرکے تمام اہلکاروں کو یرغمال بنانے کے بعد انکا اسلحہ و دیگر سامان ضبط کرکے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے اس دوران پولیس اور ایگل اسکواڈ کے اہلکاروں کو یرغمال بنانے کے بعد چھوڑ دیا ہے۔
ضلع خضدار کے تحصل نال گروک میں لیویز چیک پوسٹ پر نامعلوم مسلح افراد کا حملہ ، چیک پوسٹ پر موجود لیویز اہلکاروں کے اسلحہ اور موٹر سائیکل صبط کر کے لے گئے ہیں۔
مستونگ سمیت نال کے مختلف مضافات میں اس وقت بھی مسلح افراد کی موجودگی کے اطلاعات ہیں جبکہ فورسز کی بھاری تعداد مختلف شاہراہوں پر تعینات کردی گئی ہے۔
ساحلی شہر اورماڑہ کے علاقے ماکولا میں نامعلوم مسلح افراد کا کوسٹل ہائی وے پولیس (N-10) کی گاڑی پر حملہ کیا۔
مسلح افراد نے پولیس گاڑی کو نذر آتش کر دیا، جبکہ پولیس اہلکاروں سے سرکاری اسلحہ اور دیگر سامان ضبط کر لیا۔
اسی طرح ضلع خاران میں گذشتہ شب مسلح افراد کی بڑی تعداد نے فورسز کے ایک پوسٹ کو حملے میں نشانہ بنایا ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق خاران میں گرُک اور دالی کے درمیانی علاقے میں قائم فورسز کے پوسٹ کو مسلح افراد نے نشانہ بنایا۔
شدید نوعیت کی جھڑپوں میں فورسز کے اہلکاروں کے ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔
حکام نے تاحال اس حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہے۔ علاقے میں بلوچ مسلح آزادی پسند تنظیمیں متحرک ہیں تاہم ان حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔