اسرائیل نے حماس پر دباو ڈالنے کی کوشش میں غزہ کی پٹی کی بجلی منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ اپنے زیر حراست اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے۔
وزیر توانائی ایلی کوہن نے یہ فیصلہ اسرائیل کی جانب سے بیس لاکھ سے زیادہ آبادی والی اس پٹی کو انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی تمام اشیاء منقطع کرنے کے ایک ہفتے بعد کیا ہے۔
انھوں نے اتوار کی شام نشر ہونے والے ایک ٹیلی ویژن بیان میں کہا کہ ’ہم یرغمالیوں کی واپسی کے لیے تمام آلات استعمال کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد ‘ایک دن’ غزہ میں حماس موجود نہ ہو۔‘
بجلی منقطع کرنے کا فیصلہ بنیادی طور پر ضروری ڈی سیلینیشن پلانٹس کے کام کو متاثر کرے گا، جو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے درکار ہیں۔
حماس نے اسرائیلی فیصلے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ غزہ کے لوگوں کو خوراک، ادویات اور پانی سے محروم کیے جانے کے بعد اس نے ’سستی اور ناقابل قبول بلیک میلنگ کی پالیسی کے ذریعے عوام اور ان کی مزاحمت پر دباؤ ڈالنے کی مایوس کن کوشش‘ کی ہے۔