پسنی و پنجگور سے مزید 3 نوجوان فورسز ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی اور پنجگور سے پاکستانی فورسز نے مزید 3 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔

پسنی سے جبری لاپتہ کئے نوجوانوں کی شناخت تیمور ولدکریم بخش اور عابد کے ناموں سے ہوگئی ہے ۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ تیمور کو وارڈ نمبر 6 جبکہ عابد کوببرشور  سے لاپتہ کیا گیا۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ عابد لیویز اہلکار ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روزبھی پسنی سے ایک لیویز اہلکار کو فورسز نے جبری لاپتہ کیا تھا جس کی شناخت قیس نثار کے نام سے ہوگئی تھی۔

دریں اثنا ضلع پنجگور سے فورسز نے دوران نماز ایک نوجوان کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے۔

لاپتہ ہونے والے نوجوان کی شناخت داؤد ولد عبدالقادر کے نام سے ہوئی ہے جنہیں پنجگور کے علاقے سریکوران سے حراست میں لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق 6 مارچ کو پاکستانی فورسز نے پنجگور کے علاقے سریکوران میں عشاء کی نماز کے وقت پاکستانی فورسز نے مسجد پہ چھاپہ مارکر مذکورہ نوجوان کو حراست میں لیا۔

خیال رہے کہ پنجگور میں پچھلے 4 دنوں سے جبری گمشدگی کے خلاف سی پیک شاہراہ پر دھرنا جاری ہے۔ وہیں دوسری جانب مزید جبری گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہورہے ہیں۔

Share This Article