بلوچ طلبہ کو جبراً لاپتہ کرنا ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے،بی ایس سی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد کے ترجمان نے کہا کہ 6 مارچ 2025 کو انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے طالبعلم سجاد اسحاق کو ریاستی خفیہ اداروں نے آئی-10 مرکز سے جبری طور پر لاپتہ کر دیا تھا۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ انہیں ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اس سے قبل فروری 2023 میں بھی وہ جبری گمشدگی کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس دورانِ حراست انہیں خضدار کینٹ میں شدید جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ کل رات 12 بجے کے قریب سجاد اسحاق کو پنجاب کے علاقے رحیم یار خان سے رہا کردیا گیا ہے۔ تاہم دورانِ حراست انہیں ایک بار پھر ریاستی اداروں کیجانب سے بدترین تشدد اور اذیت سے گزارا گیا ہے، جس کی وجہ سے ان کی زندگی کو اب بھی سنگین خطرات لاحق ہے۔ اگر سجاد اسحاق یا ان کے خاندان سمیت کسی بھی فرد کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری ریاستی اداروں اور حکومتِ پنجاب پر عائد ہوگی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچ طلبہ کی ماورائے عدالت جبری گمشدگی، پروفائلنگ اور ہراسمنٹ جیسے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کا تسلسل نہایت ہی تشویشناک ہے اور بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد ماروائے عدالت جبری گمشدگیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتی ہے کہ ریاست اپنی غیر قانونی پالیسیوں کو فوری طور پر ترک کرے اور تمام جبری لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔ لیکن ابھی بھی فیروز بلوچ، احمد خان بلوچ، اشفاق بلوچ سمیت سیکڑوں بلوچ طلبہ اب بھی جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔ ہم ایک بار پھر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم جمہوریت پسند لوگ ہیے اور اس طرح کے ہتھکنڈے ہمیں اپنے حقوق کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹا سکتے۔ بلکہ ہم اپنی تحریک کو مزید وسعت دے کر اسے جاری رکھیں گے۔

Share This Article