بلوچستان کے مستونگ کے علاقے کردگاپ میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں کے خلاف لواحقین کا روڈ بلاک دھرنا 8 ویں روز سے جاری ہے ۔ ہر طرح کی آمدو رفت بند ہے ، گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں ، ہزاروں کی تعداد میں لوگ پھنسے پوئے ہیں۔
آج بروزہفتہ کو دھرنا مظاہرین نے ٹرین کو بھی روک دیا ہے۔
گذشتہ شب ضلعی حکام اور جبری گمشدگیوں سے متاثرہ خاندانوں کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے شاہراہیں بند ہیں اور عوام کی کثیر تعداد روڈوں پر بیٹھیے ہوئے ہیں جن اکثریت خواتین کی ہے۔
اس وقت کردگاپ میں آر سی ڈی شاہراہ جو کوئٹہ تافتان شاہراہ کے نام سے بھی جانی جاتی ہے 8 ویں روز سے احتجاجاً بند ہے ۔
جبکہ پنجگور میں عاقل بلوچ کے جبری گمشدگی کیخلاف سی پیک شاہراہ پر دھرنا جاری ہے ۔
رات گئے لواحقین نے بڑی تعداد میں دھرنے کا آغاز کیا۔
لواحقین کا مطالبہ ہے عاقل بلوچ کو بحفاظت بازیاب کیا جائے ۔
واضح رہے کہ رواں ہفتے بلوچستان میں سوراب، کردگاپ، قلات، حب، کوئٹہ اور تربت میں جبری گمشدگیوں سے متاثرہ خاندانوں کی جانب سے اہم شاہراہوں پر دھرنے دیئے گئے جبکہ آج پنجگور میں بھی دھرنا دیا جارہا ہے۔
ادھر قلات سے جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کا انتظامیہ کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد دھرناموخر کردیا گیا، کوئٹہ کراچی کے مرکزی شاہراہ چار دن بعد ٹریفک کیلئے بحال کیا گیا ۔
مظاہرین نے بتایا کہ قلات میں پچھلے چار دنوں سے جاری احتجاجی دھرنے میں اشفاق بلوچ سمیت دوسرے جبری لاپتہ افراد کے لواحقین اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس سلسلے میں لواحقین اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی طرف سے شال اور مستونگ میں کل بروز ہفتہ جو احتجاجی پہیہ جام کی کال تھی وہ مؤخر کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاہم اگر انتظامیہ مذاکرات میں طے نقاط پر عمل درآمد نہیں کرتی تو متاثرہ خاندان اور بلوچ یکجہتی کمیٹی دوبارہ احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے۔
ادھر مستونگ کے علاقے کردگاپ میں مرکزی شاہراہ پر دھرنا بدستور جاری ہے، گذشتہ شب ضلعی حکام اور جبری گمشدگیوں سے متاثرہ خاندانوں کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔