امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امن کی کوششوں کے دوران روس کے مقابلے میں انھیں یوکرین سے نمٹنا زیادہ مشکل محسوس ہو رہا ہے۔
صدرٹرمپ نے جمعے کہ روز اوول آفس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں بتایا کہ امن کی کوششوں کے حوالے سے امریکہ اور روس کے درمیان تعاون بہت اچھا جاری ہے جبکہ یوکرین کے ساتھ معاملات طے کرنا آسان نہیں۔
یاد رہے کہ اس سے چند گھنٹے قبل ٹرمپ یہ بھی عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ یوکرین کے ساتھ جنگ بندی ہونے تک روس پر بڑے پیمانے پر پابندیوں اور محصولات عائد کرنے کے حوالے غور کر رہے ہیں۔
دوسی جانب خلائی ٹیکنالوجی کمپنی میکسار نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ اس سے قبل امریکہ نے کچھ سیٹلائٹ تصاویر تک یوکرین کی رسائی بھی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل یوکرین کی فوجی امداد روکنے کا اعلان بھی کر چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان وائٹ ہاؤس میں یوکرین کے صدر کے ساتھ ٹرمپ کی کشیدگی پر مبنی گفتگو کے ٹھیک ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔ زیلینسکی پر کڑی تنقید کے بعد رواں ہفتے ٹرمپ نے کیئو کے ساتھ امریکی فوجی امداد اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو روک دیا۔
روس نے جمعرات کی رات یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے پہلے سے ہی بھاری پابندیوں والے روس پر مزید پابندیوں کی دھمکی بظاہر اس حملے کے ردعمل میں تھی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ نئے محصولات پر غور کر رہے ہیں کیونکہ روس اس وقت میدان جنگ میں یوکرین کو پوری شدت سے نشانہ بنا رہا ہے۔
تاہم اس کے چند گھنٹوں کے اندر ہی صدر ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن وہی کام کر رہے ہیں جیسا کہ کوئی اور کرتا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’میرے خیال میں وہ انھیں (یوکرین) کو اتنا ہی مار رہا ہے جتنا کہ خود انھیں نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ شاید اس پوزیشن میں کوئی بھی شخص ایسا ہی کرے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ انھیں یقین ہے کہ پوتن جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ یوکرین کے بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے۔
اس سوال پر کہ انھوں نے کیئو کی امداد کیوں روکی، صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں جاننا چاہتا ہوں کہ وہ (یوکرین) مسلے کا حل نکالنا چاہتے ہیں کیونکہ میں نہیں جانتا کہ ان کا ارادہ کیا ہے؟‘
صدر ٹرمپ کی روسی صدر پوتن کے ساتھ براہ راست سفارتکاری نے نیٹو کے اتحادیوں کوحیران کر دیا ہے۔کیونکہ مغرب نے فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد سے ماسکو کے ساتھ تعلقات منقطع کیے ہوئے ہیں۔
ٹرمپ کی زیلینسکی سے کشیدگی کے باوجود ان کی خارجہ پالیسی ٹیم نے پچھلے دو دنوں میں یوکرین کے لیے زیادہ مصالحانہ لہجہ اپنایا ہے۔
امریکہ چاہتا ہے کہ زیلینسکی ایک ایسا معاہدہ کریں جو انھیں یوکرین کے معدنی وسائل میں بڑا حصہ دے اور وہ ماسکو کے ساتھ جلد جنگ بندی پر رضامند ہو جائیں۔
زیلینسکی اس معاہدے کا حصہ بننے کے لیے کیئو کے لیے مضبوط سکیورٹی کی ضمانتیں چاہتے ہیں۔
جمعے کے روز ٹرمپ نے کہا کہ ایسی سکیورٹی ضمانتوں پر بعد میں بات ہو سکتی ہے اور یہ ’آسان مرحلہ‘ ہوگا۔
اسی دوران خلائی ٹیکنالوجی کمپنی میکسر نے بی بی سی ویری فائی کو بتایا کہ امریکہ نے یوکرین کی جی ای جی ڈی پروگرام کے تحت کچھ اعلیٰ معیار کی سیٹلائٹ تصاویر تک رسائی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔
یاد رہے کہ سیٹلائٹ تصاویر افواج کو دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے میں مدد دینے کے باعث جنگ کے دوران انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔
واضح رہے کہ اگلے ہفتے ٹرمپ حکومت کے سینیئر حکام زیلینسکی کی ٹیم سے ملاقات کے لیے سعودی عرب جائیں گے کیونکہ ان پر ٹرمپ کی شرائط کو ماننے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
یوکرینی صدر نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ مذاکرات ’بامعنی‘ ہوں گے۔
جمعے کے روز زیلینسکی نے کہا تھا کہ ان کا ملک ’جتنی جلدی ممکن ہو سکے امن کے لیے تیار ہے‘ اور اس کے لیے انھوں نے ’ٹھوس اقدامات‘ تجویز کیے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہر روز، روس کے نئے حملے اس بات کو ثابت کر رہے ہیں کہ روس کو امن پر مجبور کیا جانا چاہیے۔‘