سوراب : جبری گمشدگیوں کے خلاف جاری دھرنا مظاہرین کا احتجاج میں شدت لانے کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے علاقے سوراب میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں کے خلاف 5 دنوں سے جاری دھرنا مظاہرین نے گذشتہ روز دھرنا گاہ سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے احتجاج میں شدت لانے اور جھالاوان ریجن میں ریلیوں کے انعقاد کا اعلان کیاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم گزشتہ چار دنوں سے بلوچ یکجہتی کمیٹی جھلاوان ریجن اور جبری گمشدگیوں کے متاثرہ لواحقین کے ساتھ سوراب میں سی پیک روڈ کو مکمل طور پر بند کرکے احتجاجی دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ احتجاج بلوچستان میں ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ایک منظم ریاستی پالیسی کا حصہ بن چکا ہے۔ ہر روز کسی نہ کسی بلوچ نوجوان کو لاپتہ کر دیا جاتا ہے، اور ان مظالم کا کوئی حساب نہیں۔ ریاستی ادارے نہ صرف معصوم شہریوں کو جبری طور پر لاپتہ کر رہے ہیں بلکہ اس ظلم کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کے لیے تشدد اور قتل و غارت کا سہارا لے رہے ہیں۔

ہمارے دھرنے میں اس وقت 12 جبری گمشدگی کے شکار افراد کے لواحقین موجود ہیں، جن میں مزید خاندان بھی شامل ہو رہے ہیں۔

متاثرین نے کہا کہ سوراب دھرنے میں جبری گمشدگی کے شکار 12 افراد کے لواحقین شریک ہیں ۔جن میں مجیب الرحمٰن ولد محمد انور،ـ عتیق الرحمن ولد عبد قادر،ـ محمد حیات ولد محمد عمر،ـ حافظ سراج احمد ولد دین محمد،ـ زاہد احمد ولد عبد الحمید ،ـ یاسر احمد ولد گل محمد،ـ زکریا بلوچ ولد سعد اللّٰہ،ـ نوید احمد بلوچ ولد عبد رشید ،ـ محمد شفیق بلوچ ولد محمد حیات،ـ فضل بلوچ ولد غلام رزاق، نصر اللّٰہ بلوچ ولد محمد امین اور ـ شاہ استخان بلوچ ولد بدل خان شامل ہیں۔

متاثرین کا کہنا تھا کہ ریاست نے ہمارے پرامن احتجاج کو سبوتاژ کرنے کے لیے طاقت کا بھرپور استعمال کیا۔ قلات ڈویژن سے پولیس، لیویز اور ایف سی اہلکاروں کو سوراب طلب کیا گیا تاکہ دھرنے کو زبردستی ختم کرایا جا سکے، لیکن ان تمام ریاستی ہتھکنڈوں کے باوجود دھرنا پوری قوت کے ساتھ جاری رہا۔

گزشتہ روز، ریاستی اداروں نے دھرنے کو دبانے کے لیے وڈیرا غلام سرور کو شہید کر دیا، تاکہ احتجاج کو کمزور کیا جا سکے، لیکن اس وحشیانہ قتل کے باوجود ہمارا احتجاج پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس دھرنے کے صرف مطالبات واضح ہیں:

۱- دھرنے میں جبری گمشدگی کے شکار افراد کی جتنے بھی لواحقین موجود ہیں انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
۲- بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مستقل طور پر بند کیا جائے۔
۳- جبری گمشدگی کے شکار افراد کے لواحقین کو ہراساں کرنے اور ان کے پرامن احتجاج کے خلاف طاقت کا استعمال بند کیا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس پریس کانفرنس کے توسط سے اعلان کرتے ہیں کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کل جھلاوان ریجن میں احتجاجی ریلیوں کا انعقاد کرے گی، ہم سوراب، خضدار سمیت گرد و نواح کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی گھروں سے نکلے اور ان متاثرہ خاندانوں کا ساتھ دیں۔

جبکہ ہم ریاست پر واضح کرتے ہیں کہ بلوچستان کے عوام مزید ظلم برداشت نہیں کریں گے۔ اگر ہمارے پیاروں کو بازیاب نہیں کیا گیا تو ہمارا احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا۔ ریاستی جبر ہمیں خاموش نہیں کرا سکتا!

Share This Article