یوکرین اب بھی امریکہ کے ساتھ معدنیات کا معاہدہ کرنے کو تیار ہے، زیلنسکی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

یوکرین کے صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین اب بھی امریکہ کے ساتھ معدنیات کا معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

یوکرینی صدر نے بی بی سی کی نامہ نگار کی جانب سے پوچھے گئے سوال کہ کیا صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک غیر معمولی اور تلخ ملاقات کے باوجود وہ امریکہ کے ساتھ مثبت بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔

اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’میں صرف چاہتا ہو کہ یوکرین کا موقف سنا جائے، ہم اپنے ساتھیوں سے چاہتے ہیں کہ وہ یاد رکھیں اس جنگ کو شروع کرنے والا کون ہے۔‘

جب امریکہ اور یوکرین کے درمیان تعلقات پہلی بار ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے روس کے ساتھ امن مذاکرات کے حوالے سے کشیدہ ہوئے تو معدنیات کے معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی تعلقات کی طرف ایک قدم بڑھانا تھا۔

مگر گذشتہ ہفتے امریکی صدر کے اوول دفتر میں میڈیا نمائندوں کے سامنے زیلنسکی، ٹرمپ اور امریکی نائب صدر وینس کے درمیان ملاقات میں تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد زیلنسکی کو بنا معاہدے پر دستخط کیے وہاں سے چلے جانے کا کہا گیا تھا۔

زیلنسکی کا یہ بیان امریکی سیکرٹری خزانہ سکاٹ بیسنٹ کے اس بیان کے بعد آیا ہے کہ ’کسی بھی امن معاہدے کے بنا کوئی معاشی معاہدہ ہونا نا ممکن ہے۔‘

امریکی سیکرٹری خزانہ نے کہا تھا کہ زیلنسکی نے ’ان معاملات اور ترتیب کو بگاڑ دیا ہے‘ کہ کیسے معدنیات اور سکیورٹی سے متعلق معاہدوں کو آگے لے کر بڑھا جائے گا۔ انھوں نے اس بارے میں عوام کے سامنے بات کرنا پسند کی جبکہ ان معاملات کو بند کمروں میں طے کرنا چاہیے تھا۔

اتوار کو لندن میں یورپی رہنماؤں کے اجلاس کے موقع پر بات کرتے ہوئے یوکرینی صدر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ان کی حالیہ تلخ ملاقات کا فائدہ نہ امریکہ اور نہ ہی یوکرین کو پہنچے گا بلکہ اس کا فائدہ صرف پوتن کو ہو گا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر انھیں دوبارہ مدعو کیا گیا تو وہ وائٹ ہاؤس جائیں گے۔

Share This Article