اسرائیل نے غزہ میں تمام انسانی امداد کا داخلہ بند کر دیا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

اسرائیل غزہ میں تمام انسانی امداد کا داخلہ بند کر دیا ہے اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ حماس جنگ بندی میں توسیع کے امریکی منصوبے پر اتفاق کرے۔

جنگ بندی کے پہلے مرحلے کا اختتام سنیچر کو ہوا تھا۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر کا کہنا تھا کہ حماس نے اب تک ڈونلڈ ٹرمپ کے مندوب سٹیو وٹکوف کی جانب سے تجویز کردہ جنگ بندی میں عارضی توسیع کے منصوبے کو ماننے سے انکار کیا ہے۔

حماس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کو روکنا ’بلیک میل‘ کرنے کا ایک بھونڈا طریقہ ہے جو جنگ بندی معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے اور انھوں نے مذاکرات کاروں سے مداخلت کرنے کی درخواست کی ہے۔

حماس جنگ بندی معاہدے کا دوسرا مرحلہ وہی چاہتے ہیں جیسے شروعات میں مذاکرات میں طے ہوا تھا۔ یعنی مزید یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوجیوں کا غزہ سے انخلا۔

حماس کی جانب سے اس سے پہلے کہا گیا تھا کہ وہ پہلے مرحلے میں توسیع کے کسی بھی منصوبے پر تب تک اتفاق نہیں کرے گا جب تک امریکہ، قطر اور مصر کے مذاکرات کاروں کی جانب سے یہ یقین دہانی نہ کروائی جائے کہ دوسرا مرحلہ بالآخر شروع ہو گا۔

نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یرغمالیوں کے تبادلے کے پہلے مرحلے کے اختتام اور حماس کی جانب سے وٹکوف کے منصوبے سے پر اتفاق نہ کرنے پر جس پر اسرائیل اتفاق کر چکا ہے وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے فیصلہ کیا ہے کہ آج صبح غزہ میں امداد کی ترسیل ختم کر دی جائے گی۔‘

Share This Article