پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں اور بلوچ نسل کشی کے خلاف بلوچستان کے علاقے مستونگ کردگاپ اور سوراب میں دھرنے جاری ہیں۔
جبکہ کوئٹہ ، تربت و حب چوکی میں جاری دھرنے انتظامیہ کے ساتھ لواحقین کے مذاکرات و یقین دہانیوں کے بعد موخر کردیئے گئے ہیں۔
مستونگ کے علاقے کردگاپ کے مقام پر کوئٹہ تفتان شاہراہ پر جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کا دھرنا پچھلے 3 دنوں سے جاری ہے۔
دس کے قریب متاثرہ خاندانوں نے ضلع مستونگ کی تحصیل کردگاپ کراس پر مرکزی کوئٹہ تفتان ہائی وے (این-40) کو بند کر دیا ہے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مستونگ اور اسسٹنٹ کمشنر کردگاپ دھرنا پر بیٹھنے والوں سے مزاکرات کے لیے آئے لیکن مزاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے اور دھرنا جاری ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر نے پہلے خواتین کے ساتھ بدتمیزی کی اور انہیں دھمکیاں دیں۔ اس کے بعد، وہ متاثرہ خاندانوں کو ان کے پیاروں کی بحفاظت رہائی کا یقین دلانے میں ناکام رہا۔
اہل خانہ نے اس وقت تک اپنا دھرنا جاری رکھنے اور سڑک بلاک کرنے کا عزم کیا ہے جب تک ریاستی حکام ان کے زبردستی لاپتہ رشتہ داروں کو منظر عام پر نہیں لاتے۔
اسی طرح تحصیل زہری کے 9 متاثرہ خاندانوں کی جانب سے مرکزی سی پی ای سی روڈ، زیرو پوائنٹ سوراب پر دھرنے کا چوتھا دن ہے۔
دھرنے پر بیٹھے متاثرہ خاندانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور انہیں سڑک کھولنے اور خاموشی اختیار کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ تاہم، وہ اپنے پیاروں کے بغیر سڑک چھوڑنے سے گریزاں ہیں۔
جبکہ ہر روز مزید خاندان دھرنے میں شامل ہو رہے ہیں۔