پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں کے ہاتھوں بلوچ نسل کشی و جبری گمشدگیوں کے خلاف بلوچستان کے مختلف علاقوں کوئٹہ ،مستونگ ،حب اور سوراب میں لواحقین کے روڈبلاک دھرنے بدستور تیسرے روز سے جاری ہیں۔
جبکہ تربت میں سی پیک شاہراہ پر جاری دھرناانتظامیہ کے ساتھ کامیاب مذکرات کے بعد ختم کردیا گیا ہے۔
کوئٹہ کے 3 مختلف مقامات بروری روڈ، سریاب اور گولی مار چوک پر دھرنے دیئے جارہے ہیں جن میں ٹکڑی بہادر علی بلوچ، علی رضا بلوچ اور بشیر احمد کیازئی کے لواحقین سمیت دیگر شامل ہیں۔
لواحقین نے شدید سردی میں سوراب ، کوئٹہ ، مستونگ میں راتیں سڑکوں پر گزاریں ۔
دھرنوں میں شیر خوار بچے بھی شامل ہیں۔
ا دھر مستونگ کے علاقے کردگاپ میں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کا مرکزی شاہراہ پر دھرنا 15 گھنٹوں سے جاری ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ہمارے جبری لاپتہ کیے گئے افراد رہا نہیں کیے جاتے دھرنا جاری رہے گا۔
اسی طرح جبری لاپتہ افراد کے لواحقین و بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دھرنا سوراب سی پیک روڈ پر تیسرے روز سے جاری ہے۔
سوراب دھرنے کے تیسرے روز مزید دو خاندانوں لاپتہ فضل بلوچ اور نصر اللہ بلوچ کے لواحقین بھی دھرنا گاہ پہنچ کر اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج میں شامل ہوگئے ہیں۔
اس وقت دھرنے میں موجود تمام 12 لاپتہ نوجوانوں کے خاندانوں اس احتجاج کا حصہ ہیں۔
تیسرے روز دھرنے کے باعث کراچی کوئٹہ شاہراہ و سی پیک روٹ کی جانب گاڑیوں کی قطاریں حد نگاہ تک لگ گئیں۔
واضح رہے گذشتہ روز حکام نے لواحقین کو دو افراد کی بازیابی کی یقین دہائی کرائی تھی تاہم لواحقین کا کہنا کہ جبری لاپتہ تمام 9 افراد کو بازیاب کیا جائے۔
دوسری جانب حب میں جبری گمشدگیوں کیخلاف بھی دھرنا تیسرے روز جاری ہے جہاں آج صبح پولیس نے مظاہرین خواتین و بچوں پر طاقت کا استعمال کیا۔
پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ سمیت لاٹھی چارج کی اور لاپتہ افراد کے لواحقین و بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ارکان کو حراست میں لیا گیا۔
دھرنا مظاہرین کا کہنا ہے کہ بوڑھی خواتین سمیت 9 افراد کو پولیس نے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔ پولیس تشدد کے باوجود لواحقین کا دھرنا جاری ہے۔