خضدار میں جمیعت علمائے اسلام کے 2 رہنما حملے میں ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع خضدار میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں وڈیرہ غلام سرور موسیانی سمیت جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے 2 رہنما ہلاک ہو گئے ہیں۔

ان کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے زہری کے علاقے تراسانی میں سنیچر کی شب گھات لگا کر حملہ کیا تھا۔

وڈیرہ غلام سرور لاپتا افراد کے رشتہ داروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سوراب گئے تھے جو کہ زہری سے نو افراد کی جبری گمشدگی کے خلاف کوئٹہ، کراچی شاہراہ پر دھرنے پر بیٹھے ہیں۔

زہری کے اسسٹنٹ کمشنر خالد شمس نے کے مطابق وڈیرہ غلام سرور ایک گاڑی میں تین افراد کے ہمراہ واپس اپنے گھر جارہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے تراسانی کے علاقے میں رات کو 9 بجے ان پر حملہ کر دیا۔

اس حملے میں وڈیرہ غلام سرور کے علاوہ جے یوآئی کے ایک اور مقامی رہنما مولوی امان اللہ ہلاک جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔

اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ واقعے کے بارے میں تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے، تاہم ابھی تک اس واقعے کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے ہیں۔

وڈیرہ غلام سرور جے یوآئی کے سابق رہنما اور وزیر وڈیرہ عبدالخالق کے صاحبزادے تھے۔

جے یو آئی کے مرکزی ترجمان اسلم غوری نے جے یو آئی بلوچستان کے رہنما وڈیرہ غلام سرور اور مولوی امان اللہ کے قتل کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک منصوبہ بندی کے تحت ان کی جماعت اور مذہبی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہدف بنا کر قتل کیا جا رہا ہے۔

اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کو جمہوریت کا ساتھ دینے کی سزا دی جارہی ہے۔

Share This Article