پسنی ونوشکی میں مواصلاتی تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، بی ایل ایف

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں پسنی اور نوشکی میں مواصلاتی تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ 28 فروری کی رات کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی کے علاقے ریک پشت کے مقام پر موبائل ٹاور سمیت مشنریز کو آگ لگائی۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور حملے میں 28 فروری ہی کے رات ایک بجے کے قریب سرمچاروں نے نوشکی کے علاقے زرین جنگل میں بھی سرمچاروں نے ٹیلی نار کمیونیکیشن کمپنی سے منسلک ٹاور کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا اور دوسرے مشنریز کو جلا دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان کے دیہی علاقوں میں ضرورت سے زیادہ مواصلاتی تنصیبات نصب کرنے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے جس کا مقصد ان مواصلاتی تنصیبات میں نصب جاسوسی کی آلات کے ذریعے سرمچاروں کے نقل و حرکت کو روکا جانا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بی ایل ایف ان دونوں حملوں کی زمہ داری قبول کرتی ہے اور بلوچستان بھر میں مواصلاتی تنصیبات پھیلانے والے کمپنیوں کو خبردار کرتی ہے کہ وہ اپنے نظام کو قابض ریاستی فوج اور انٹیلیجنس اداروں کو تقویت فراہم کرنے سے اجتناب کریں ورنہ اپنے نقصانات کا ذمہ دار خود ہونگے۔

Share This Article