بلوچستان میں جاری ریاستی مظالم ،بلوچ نسل کشی و جبری گمشدگیوں کیخلاف توتک میں ایلم اتحاد کے زیر اہتمام ایک عظیم ا لشان قبائلی جرگے کا انعقاد کیا گیا۔
جرگے میں قبائلی و سیاسی عمائدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
جرگے میں خان آف قلات کے فرزند پرنس محمد خان احمدزئی، سردار سرفراز خان سمالانی، سردارزادہ سخی جان سمالانی، سردارزادہ شیر علی گرگناڑی، میر ناصر قمبرانی میر علی اکبر گرگناڑی، میر حسن خان قلندرانی، عزت اللہ رودینی، ایڈوکیٹ بشیر احمد سمالانی، میر شیر علی میروانی، ٹکری نورنگ میروانی، جلیل احمد میروانی، ڈاکٹر نظیر احمد رودینی میر بجار میروانی سمیت دیگر قبائلی و سیاسی عمائدین نے شرکت کی۔
تاریخی جرگے میں نہ صرف اہلیانِ توتک بلکہ خضدار، سوراب، کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، پنجگور، بیسمہ، نال، کودہ، کوڑاسک، ساجد اور دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے بھرپور شرکت کی۔
جرگے میں توتک میں سرگرم مسلح جتھوں کی کارروائیوں کو ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے پُرزور مطالبہ کیا گیا کہ اگر فوری طور پر توتک سے بندوق بردار گروہوں کا خاتمہ نہ کیا گیا، پہاڑوں کی چوٹیوں سے گھروں پر لائٹیں مارنے اور چیکنگ کے نام پر عام شہریوں کی تذلیل کا سلسلہ بند نہ ہوا، تو جلد بلوچستان بھر میں شاہراہیں بند کرکے بھرپور عوامی احتجاج کیا جائے گا۔
شرکائے جرگہ نے واضح کیا کہ توتک اور گرد و نواح کے عوام مزید ظلم اور بے عزتی برداشت نہیں کریں گے، اور اگر ریاستی اداروں نے مسلح جتھے کو نہ روکا تو عوام اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔
قبائلی عمائدین نے متفقہ طور پر تین اہم قراردادیں منظور کیں کہ بلوچستان بھر میں جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔ توتک سے ڈیتھ اسکواڈ کا فوری انخلا کیا جائے بصورت دیگر شدید عوامی ردعمل دینگے۔ بتایا گیا کہ اگر حکومت نے ان مطالبات کو نظر انداز کیا تو بلوچستان بھر میں سڑکیں بلاک کر دی جائیں گی۔
سردار علی محمد قلندرانی نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “ہمارا ضمیر مطمئن ہے، ہمارے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے آلودہ نہیں، ہم نے کوئی جرم نہیں کیا، لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم اس ظالم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “ہمیں گزشتہ 15 سال سے بدترین مظالم کا سامنا ہے، لیکن اب ہم مزید ظلم برداشت نہیں کریں گے۔ اگر ریاست نے اس جارحیت کا نوٹس نہ لیا تو پھر عوام اپنے تحفظ اور امن کے لیے خود فیصلہ کریں گے۔ ہم کسی قیمت پر شفیق مینگل جیسے قاتل کو دوبارہ توتک کی زمین پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔”
شرکائے جرگہ نے متفقہ طور پر سردار علی محمد خان قلندرانی کے مؤقف پر مکمل اعتماد اور غیر متزلزل حمایت کا اعلان کیا۔