یوکرین جنگ کے 3 سال : اقوام متحدہ میں الگ الگ قرارداد میں رائے منقسم

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

یوکرین میں روس کی جنگ کے تین برس مکمل ہونے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں دو بار ایسے مواقع آئے جب امریکہ روس کا ساتھ دیا۔ یہ پیشرفت اس جنگ پر ٹرمپ کے بدلتے مؤقف کی عکاسی کرتی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے روس مخالف تمام یورپی ترامیم مسترد کرتے ہوئے یوکرین میں جنگ بندی سے متعلق امریکی قرارداد منظور کرلی ہے۔ امریکہ نے یورپ کے بجائے روس کا ساتھ دیا۔ ایسا بہت ہی کم ہوا کہ اپنے یورپی اتحادیوں کے خلاف یوں امریکہ دوسری صف میں جا کھڑا ہوا ہو۔

اقوام متحدہ میں پیر کو یوکرین، یورپی یونین کی مشترکہ قرار داد اور امریکہ کی الگ قراردادوں پر ووٹنگ ہوئی۔ پہلے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یوکرین کی علاقائی سلامیت کی حمایت اور روسی افواج کی فوری واپسی پر مبنی قرارداد یوکرین جنگ کا تیسرا سال مکمل ہونے پر پیش کی گئی۔

یوکرین اور یورپی یونین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں یوکرین پر روسی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے روسی افواج کو یوکرین سے باہر نکالنے کا مطالبہ کیا گیا۔

امریکہ کی شدید مخالفت کے باوجود اقوام متحدہ نے یورپی حمایت یافتہ یوکرین قرارداد اکثریت رائے سے منظور کر لی۔

اس کے بعد امریکہ کی الگ قرار داد پر سلامتی کونسل میں ووٹنگ ہوئی۔

امریکی قرارداد میں کہا گیا کہ تنازع کا فوری خاتمہ اور یوکرین روس کے درمیان دیرپا امن قائم کیا جائے اور اقوام متحدہ کا مرکزی کردار عالمی امن اور تنازعات کے خاتمے کو ممکن بنانا ہے۔

قرارداد میں روس کی مذمت کی گئی اور نہ اس کو جارح کہا گیا بلکہ یوکرین روس تنازع قرار دیا گیا۔ قرارداد میں روسی فیڈریشن اور یوکرین کے درمیان تنازع کے دوران اموات پر اظہار افسوس کیا گیا۔

روس نے یوکرین سے متعلق امریکی قرارداد میں ترمیم کی یورپی کوشش کو ویٹو کیا۔

یوں سلامتی کونسل نے روس مخالف تمام یورپی ترامیم مسترد کرتے ہوئے یوکرین سے متعلق امریکی قرارداد منظور کرلی۔

امریکہ، روس، چین اور پاکستان سمیت دس ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ امریکہ کے دو اہم اتحادی فرانس اور برطانیہ نے اس وقت اس عمل کا بائیکاٹ کیا جب اس قرارداد میں کچھ ترامیم کی ان کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔

یہ قراردادیں ایک ایسے وقت پر اقوام متحدہ میں پیش کی گئیں جب فرانس کے صدر ایمینوئل میخواں بھی صدر ٹرمپ سے امریکہ میں ملاقات کی اور یوکرین سے متعلق اختلافات دور کرنے کی کوشش کی۔

جعمرات کو برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر سٹارمر صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

اقوام متحدہ کے اجلاس سے یہ بھی واضح ہو گئی کہ اب امریکہ یورپ کو پہلے جیسی نظر سے نہیں دیکھ رہا جس سے امریکہ کی طرف سے یورپ کے لیے دی جانے والی سکیورٹی پر بھی شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔

یورپی ممالک کی قرارداد میں یوکرین میں جنگ چھیڑنے کے لیے روس کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور اس قرارداد میں یوکرین کا آزادی اور اس کی علاقائی سالمیت کی حمایت کی گئی۔

یوکرین کی نائب وزیر خارجہ ماریانہ بیٹسا نے کہا ہے کہ ہمیں یہ یقینی بنانا ہے کہ جارحیت کی مذمت کی جائے، اسے نوازنے کے بجائے اس کی بے توقیری کی جائے۔

Share This Article