بلوچ وومن فورم کی مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر شلی بلوچ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ چیئرمین زاہد بلوچ اور اسد بلوچ کی جبری گمشدگی کو آج بارہ سال کا طویل عرصہ مکمل ہو چکا ہے، مگر ان کے اہلِ خانہ کو آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔ یہ صرف دو افراد کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسے اجتماعی درد کی علامت ہے جو برسوں سے بلوچستان کے بے شمار گھروں میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے کرب، امید اور بے یقینی کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔ اہلِ خانہ نے پرامن احتجاج، قانونی جدوجہد اور قومی و بین الاقوامی سطح پر، حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ تک اپنی آواز پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر افسوس کہ انہیں اب تک انصاف نہیں ملا اور نہ ہی کسی کو جوابدہ ٹھہرایا گیا۔
ڈاکٹر شلی بلوچ نے مزید کہا کہ یہ دکھ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ گزشتہ سال زاہد بلوچ کے بھائی شاہجان کے قتل کی خبر نے اس خاندان کے زخموں کو مزید گہرا کر دیا۔ اس واقعے نے نہ صرف ان کی سلامتی کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ دباؤ اور خوف کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں آج بھی تعلیم یافتہ اور باشعور آوازوں کو خاموش کیا جا رہا ہے۔ کچھ افراد لاپتہ ہیں جبکہ کچھ پابندِ سلاسل ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ ایک پورے معاشرے کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔
آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ زاہد بلوچ، اسد بلوچ اور دیگر تمام لاپتہ افراد کے بارے میں فوری اور شفاف معلومات فراہم کی جائیں، ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ خاموشی اب قابلِ قبول نہیں، انصاف ہی پائیدار امن کی بنیاد ہے۔